تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 262

ہماری تکلیف وقتی ہے اور تمہاری دائمی عَذَابٌ مُّقِيْمٌ ایسا عذاب جو قائم رہے گا یعنی اس دنیا میں آئے گا اور اگلے جہان میں بھی جاری رہے گا۔یعنی فرمایا کہ عذاب تو وہی ہے جس میں قائم رہنے والی اور حقیقی ذلت ہو۔جو مٹنے والی نہ ہو۔بلکہ تباہ کردینے والی ہو۔پس تمہاری ہنسی سے ہماری کوئی تذلیل نہیں ہوتی اور نہ ہم اس سے گھبراتے ہیں۔گھبرانا تو تم کو چاہیےکہ جن پر حقیقی اور دائمی ذلت اور عذاب آنے والا ہے۔حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِيْهَا مِنْ یہاں تک کہ جب ہمارا (عذاب کا) حکم آجائے اور چشمے پھوٹ کر بہہ پڑیں تو (اس وقت) ہم فرمائیں گے (کہ) كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ اس میں ہر ایک (قسم کے جانوروں) میں سے ایک جوڑا یعنی دو( ہم جنس فردوں) کو اور اپنےاہل (و عیال) کو وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيْلٌ۰۰۴۱ ( بھی) سوائے اس( فرد) کے جس (کی ہلاکت کے متعلق اس عذاب کے آنے) سے پہلے (ہی ہمارا قطعی) فرمان جاری ہو چکا ہو اور( نیز) جو (لوگ تجھ پر )ایمان لائے ہیں انہیں اس میں سوار کر لے اور اس کے ساتھ (رہائش اختیار کرتے ہوئے)سوائے قلیل (تعداد) کے کوئی اس پر ایمان نہ لایا تھا۔حلّ لُغَات۔فَارَ۔فَارَجَاشَ ابل پڑا (قاموس) فَارَتِ الْقِدْرُ۔غَلَتْ۔ہنڈیا کو ابال آ گیا۔فَارَالْمَاءُ نَبَعَ مِنَ الْاَرْضِ وَجَرٰی۔جب یہ لفظ پانی کے لئے استعمال ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں پانی زمین میں سے پھوٹ پڑا اور بہہ پڑا (اقرب)۔اَلتَّنُّوْرُ۔اَلتَّنُّوْرُ الْکَانُوْنُ یُخْبَزُفِیْہِ۔تنور جس میں روٹیاں پکاتے ہیں۔کُلُّ مَفْجَرِ مَآءٍ۔جہاں سے پانی پھوٹے۔یعنی چشمہ۔مَحْفَلُ مَاءِ الْوَادِیِّ۔وادی کے پانی کے جمع ہونے کی جگہ۔(اقرب) اَلتَّنُّوْرُ وَجْہُ الْاَرْضِ۔تنور کے معنی سطح زمین کے بھی ہیں۔(تاج ) بحرمحیط کے مصنف کہتے ہیں کہ قرآن میں فَارَالتَّنُوْرُ ہوسکتا ہے کہ مجازاً استعمال ہوا ہو جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ حَمِیَ الْوَطِیْسُ جس سے آپ کی مراد یہ تھی کہ جنگ خوب تیز ہو گئی ہے۔حالانکہ لفظ یہی تھے کہ تنور گرم ہو گیا ہے اور فَارَ اور حَـمِیَ کے معنی ایک ہی ہیں۔