تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 264
حضرت نوح ؑپہاڑی علاقہ میں رہتے تھے اور یہ بات قرآن کریم اور تاریخ سے ثابت ہے کہ حضرت نوح ؑ پہاڑی علاقہ میں رہتے تھے کیونکہ اس آیت سے آگے دو آیتیں چھوڑ کر تیسری آیت میں حضرت نوح ؑ کے بیٹے کا قول نقل کیا ہے کہ سَاٰوِیْ اِلٰی جَبَل میں کسی پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا۔جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ علاقہ پہاڑی تھا اور حضرت نوح ؑ پہاڑوں کے درمیان کسی وادی میں رہا کرتے تھے۔ورنہ یہ خیال نہیں کیا جاسکتا کہ طوفان کے آنے پر ان کے بیٹے نے کہا ہو کہ میں دوڑ کر سو یادوسو میل کے کسی پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا۔اس کا فقرہ صاف بتاتا ہے کہ وہ بالکل دامن کوہ میں کھڑا ہوا تھا اور باوجود اس کے کہ طوفان بڑھ رہا تھا وہ سمجھتا تھا کہ میں آسانی سے پہاڑ پر چڑھ کر بچ سکوں گا۔لفظ کل سے مراد مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ میں کل سے مراد صرف وہی جانور ہیں جوحضرت نوح ؑ کے گھر میں موجود تھے۔اور عموماً کل انہی افراد پر مشتمل ہوتا ہے جو عرف عام کے مطابق اس کے نیچے آسکیں نہ کہ کل افراد پر۔قرآن کریم میں ملکہ سبا کی نسبت آتا ہے اُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ (النمل:۲۴) اسے ہر ایک شے دی گئی تھی مگر حضرت سلیمان علیہ السلام اس کے پیغامبروں کے جواب میں فرماتے ہیں کہ اے ملکہ تیری ہستی ہی کیا ہے میں تجھے ہلاک کردوں گا۔اگر کل کے معنی سب کچھ کے ہی ہوتے تو ضروری تھا کہ جو کچھ سلیمان علیہ السلام کے پاس تھا وہ بھی اس کے پاس ہوتا۔لیکن اس جگہ کل کے معنی کوئی شخص سب کچھ نہیں کرتا بلکہ مفسرین بھی یہی معنی کرتے ہیں کہ سب قسم کی ضرورتوں کے سامان اس کے پاس تھے(روح المعانی زیر آیت ھٰذا)۔پس کوئی وجہ نہیں کہ یہی معنی یہاں نہ کئے جائیں اور یہ نہ کہا جائے کہ حضرت نوح علیہ السلام کو بھی انہی جانوروں کے جوڑے لینے کا حکم دیا گیا تھا جن کی انہیں ضرورت ہو سکتی تھی اور یہی معقول معنی ہیں ورنہ ماننا پڑے گا کہ کروڑوں اربوں حشرات الارض اور درندے سب حضرت نوح ؑ کی کشتی میں جمع ہو گئے تھے۔اس صورت میں تو کشتی کوئی چوتھائی حصۂ زمین کے برابر چاہیے۔زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ میں تقلیل کی ہدایت یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اس جگہ زوجین کہہ کر تقلیل پر زور دیا ہے کہ جوڑوں سے زائد نہ لو پس یہ زور دینا بھی بتارہا ہے کہ حکم صرف ضروری اشیاء کے لئے تھا نہ کہ دنیا جہان کی چیزوں کو اکٹھا کرنے کے متعلق۔اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ کے معنی اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ کے یہ معنی نہیں کہ سوائے اس کے جس کے متعلق تجھے بتا دیا گیا ہے بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ سوائے اس کے کہ جس کے خلاف الٰہی فیصلہ ہوچکا ہے۔حضرت نوح علیہ السلام نے اس فقرہ کی نسبت یہ خیال کیا کہ یہ صرف استغناء کے اظہار کے لئے ہے جیسے کہ حضرت شعیبؑ نے اپنے مخالفوں سے کہا تھا کہ مَا يَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِيْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا۔(الاعراف:۹۰) یعنی ہم تمہارے