تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 19
ان ہونی بات سمجھتے ہیں۔ان ہونی یا عجیب بات اسی کو کہتے ہیں جسے انسان بعیدازقیاس سمجھتا ہے۔پس اگلی آیت سے معلوم ہوا کہ کفار قرآن کریم کے مضمون کو بعیدازقیاس باتیں قرار دیا کرتے تھے۔اس لئے مخاطبین کے عقیدہ کے مطابق تعریضاً فرمایا کہ وہ ان ہونی بات (یعنی جسے تم ان ہونی خیال کرتے ہو) ایک نہایت ہی پختہ کتاب کی آیتیں ہیں۔یعنی بجائے اس کے کہ انہونی ہوں ان سے زیادہ کوئی اور بات یقینی ہو ہی نہیں سکتی۔پس تِلْکَ کا لفظ ان کے استبعاد کو مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کیا گیا ہے۔ایک دوسری جگہ قرآن کریم میں آتا ہے اِنَّهُمْ يَرَوْنَهٗ بَعِيْدًا۔وَّ نَرٰىهُ قَرِيْبًا۔(المعارج:۷،۸) جس کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ وہ لوگ اسے مستبعد خیال کرتے ہیں اور ہمارے نزدیک وہ امر یقینی ہے۔غرض جس چیز کے متعلق تعجب اور استبعاد ہو۔وہ بھی دور کی سمجھی جاتی ہے۔پس ان لوگوں کے خیالات کے مطابق فرمایا کہ وہ چیز جو تمہیں دور کی نظر آتی ہے اور جسے تم بعیدازعقل سمجھتے ہو اسے دور کی نہ سمجھو۔وہ تو اس کتاب حکیم کی آیتیں ہیں۔اور بہرحال پوری ہوکر رہیں گی۔اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ کیا لوگوں کے نزدیک ہمارا ان میں سے ایک شخص پر (یہ) وحی کرنا کہ لوگوں کو ہوشیار کر اور جو لوگ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ ایمان لائے ہیں انہیں بشارت دے کہ ان کے لئے ان کے رب کے حضور میں ایک ظاہرو باطن طور پر کامل درجہ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ۰۰۳ ہے( ایسا) عجیب (امر) تھا (کہ) ان کافروں نے کہہ دیا کہ یہ (شخص) یقیناً یقیناً کھلا کھلا دھوکہ باز ہے۔حلّ لُغات۔عَـجَبٌ۔اَلْعَجَبُ اِنْکَارُمَا یَرِدُ عَلَیْکَ یعنے جب کوئی ایسا امر پیش آئے کہ اس کے ماننے میں طبیعت کو انقباض اور انکار ہو تو اس حالت انکار کو عجب کہتے ہیں۔اِسْتِطْرَافَہ۔پیش آمدہ امر کو پسند کرنے کو بھی عجب کہتے ہیں۔رَوْعَۃٌ تَعْتَرِی الْاِنْسَانَ عِنْدَ اِسْتِعْظَامِ الشَّیْءِ۔یعنی اس حالت رُعب کو بھی عجب کہتے ہیں جو انسان پر کسی چیز کو بہت ہی بڑا سمجھنے کے وقت طاری ہوتی ہے۔وَمِنَ اللہِ۔اَلرَّضٰی اور جب اللہ کی طرف اس لفظ کو منسوب کیا جاوے تو اس کے معنی پسندیدگی کے ہوتے ہیں۔(اقرب)