تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 18

حَکَم جو حکیم کا مادہ ہے۔اس کے معنی ہیں مَنَعَ مَنْعًا لِاِصْلَاحٍ۔اصلاح کی خاطر کسی کو کسی کام سے روکنا۔اور اسی وجہ سے جانور کی لگام کو حَکَمَۃً کہتے ہیں۔ایک شاعر کہتا ہے ؎ أَبَنِیْ حَنِیْفَۃَ أَحْکِمُوْا سُفُہَاءَ کُمْ اے بنی حنیفہ اپنے بیوقوفوں کو سمجھاؤ اور بری باتوں سے روکو۔(مفردات) تفسیر۔اس آیت میں خَیْرُالْکَلَامِ مَاقَلَّ وَ دَلَّ کا پورا نقشہ کھینچا گیا ہے۔لفظ تھوڑے ہیں لیکن اس قدر وسیع معانی پر مشتمل ہیں کہ قرآن کریم کے کمالات کا خاکہ کھینچ دیتے ہیں۔الفاظ کے جو معنی اوپر لکھے گئے ہیں ان پر غور کرو اور دیکھو کہ کس قدر وسیع مطالب کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ یہ آیتیں ایسی کتاب کی ہیں جو اپنے اندر علوم رکھتی ہے۔عدل کی تعلیم دیتی ہے جہالت سے روکتی ہے۔تمام سچائیاں اس میں پائی جاتی ہیں۔محل اور موقع کے لحاظ سے تعلیم دیتی ہے۔لوگوں کی اصلاح کی غرض سے تعلیم دیتی ہے۔اس میں بڑی پکی باتیں ہیں۔عربی زبان کی وسعت دیکھو۔ایک لفظ میں کتنے دعویٰ کر دیئے ہیں۔اور بتایا ہے کہ یہ ہیں ہمارے کام۔پس اب تم کو یہ دیکھنا چاہیے کہ واقع میں اس میں یہ باتیں پائی جاتی ہیں یا نہیں۔اگر پائی جاتی ہیں تو پھر اس کا انکار خلاف عقل و دانش ہوگا۔مگر کون کہہ سکتا ہے کہ قرآن کریم میں یہ امور نہیں پائے جاتے؟ اشارہ بعید کا لفظ اختیار کرنے کی وجہ تِلْکَ کے متعلق کہا گیا ہے کہ اس کے ساتھ بعید کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔اور اٰیٰتُ الْکِتٰبِ تو بعید نہیں۔جن کی طرف بظاہر اشارہ ہے۔پس سوال یہ ہے کہ تِلْکَ کا لفظ جو اشارہ بعید کے لئے ہے۔یہاں پر کیوں لایا گیا ہے۔بعض نے اس کے متعلق کہا ہے کہ تورات وغیرہ پہلی کتابوں میں اس کتاب کی نسبت پہلے سے خبر دی ہوئی تھی۔پس تِلْکَ کے ساتھ ان مبشر آیات کی طرف اشارہ ہے جن میں اس کلام پاک کی خبر دی گئی تھی۔اور بتایا ہے کہ وہ مبشرات اس کتاب کی آیتیں ہیں۔یعنی ان کا وجود اس کتاب کی آیتوں کے ذریعہ سے پورا ہوتا ہے۔اور بعض کا یہ خیال ہے کہ خدا نے پہلے مکمل کتاب لکھ چھوڑی تھی۔اس میں سے وہ وقتاً فوقتاً آیتیں اتارتا رہتا ہے۔پس ان کے نزدیک تِلْکَ کا اشارہ اس پہلی مکمل شدہ کتاب کی آیتوں کی طرف ہے۔بعض کہتے ہیں کہ جس طرح مُشار اِلَیْہ کے بُعد مکانی کے بتانے کے لئے تِلْکَ آتا ہے ایسا ہی اس کے درجہ کے بُعد کے اظہار کے لئے بھی آتا ہے۔اور یہاں پر درجہ کے بُعد اور تعظیم کے لئے اس لفظ کے ساتھ اشارہ کیا گیا ہے۔یہ سب مفہوم اپنی اپنی جگہ پر ٹھیک ہیں۔مگر میرے نزدیک ایک اور مفہوم بھی ہے جو درجہ والی بات سے ملتا ہے مگر اس سے کسی قدر الگ بھی ہے۔اور وہ یہ کہ آگے آتا ہے اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا کیا لوگ اسے عجیب بات یعنی