تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 20
رَجُلٌ اَلرَّجُلُ خِلَافُ الْمَرْأَۃِ یعنی مرد۔اَلْکَامِلُ فِی الرُّجُوْلِیَّۃِ وہ شخص جس میں مردوں والے کمالات بدرجہ اتم پائے جائیں۔(اقرب) وَحْیٌ اَوْحَیْنَا وَحْیٌ سے ہے وَحْیٌ کے معنی مفردات راغب میں لکھے ہیں۔اَصْلُ الْوَحْیِ۔اَلْاِشَارَۃُ السَّرِیْعَۃُ وحی کے اصل معنی تیزی سے اشارہ کرنے کے ہیں۔لفظ وحی کلام الٰہی کی ان تمام قسموں کے لئے بولتے ہیں جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی مرضی سے مطلع فرماتا ہے۔میرے نزدیک وحی کا لفظ اس کلام کے لئے اسی بناء پر چنا گیا ہے کہ علوم روحانیہ الفاظ میں پوری طرح بیان نہیں ہوسکتے۔صرف ان کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے۔پس خود اس نام سے ہی کلام کی رفعت کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے۔اَنْذِرْ اَنْذَرَ کا صیغۂ امر ہے۔اس کی مصدر اِنْذَارٌ ہے اور الفاظ نَذْرٌ، نُذْرٌ، نُذُرٌ اور نَذِیْرٌ بھی اس معنی میں آتے ہیں۔کہتے ہیں اَنْذَرَہٗ بِالْاَمْرِ۔اَعْلَمَہٗ وَحَذَّرَہٗ مِنْ عَوَاقِبِہٖ قَبْلَ حُلُوْلِہٖ یعنی کسی امر کی حقیقت سے اسے آگاہ کیا۔اور اس امر کے نتائج کے ظاہر ہونے سے پہلے اسے ہوشیار کر دیا اور کہتے ہیں اَنْذَرَہٗ خَوَّفَہٗ فِیْ اِبْلَاغِہٖ یُقَالُ اَنْذَرْتُ الْقَوْمَ سَیْرَ الْعَدُوِّ اِلَیْھِمْ فَنَذَرُوْا یعنی اَنْذَرَہٗ کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ خبر پہنچاتے ہوئے خوب ہوشیار کیا چنانچہ جب کہتے ہیں اَنْذَرْتُ الْقَوْمَ سَیْرَ الْعَدُوِّ تو اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ میں نے قوم کو دشمن کی پیش قدمی سے خوب ہوشیار کیا۔اور اس کا فعل لازم یا مطاوع نَذَرَ ہے جس کے معنی ہیں وہ ہوشیار ہو گیا۔(اقرب) قَدَمٌ اَلْقَدْمُ اَلرِّجْلُ۔پاؤں۔اَلسَّابِقَۃُ فِی الْاَمْرِ خَیْرًا کَانَ اَوْشَرًّا۔کسی بات میں کمال کا حاصل ہونا۔خواہ بری بات ہو یا اچھی۔کہتے ہیں لِفُلَانٍ فِی کَذَا قَدَمٌ صِدْقٍ اَوْقَدَمُ سُوْءٍ۔فلاں شخص کو فلاں اچھی بات میں کمال حاصل ہے۔یا فلاں بری بات میں کمال حاصل ہے۔اَلْقَدَمُ۔اَلرَّجُلُ لَہٗ مَرْتَبَۃٌ فِی الْخَیْرِ۔قدم اس شخص کو بھی کہتے ہیں جسے کسی اچھی بات میں کوئی خاص درجہ حاصل ہو۔اَلْقَدَمُ۔الشَّجَاعُ۔قدم بہادر (مرد یا عورت) کو بھی کہتے ہیں۔اور کہتے ہیں وَضَعَ الْقَدَمَ فِیْ عَمَلِہٖ اس نے اس کام کو شروع کر دیا۔(اقرب) صِدْقٌ اَلصِّدْقُ یُعَبَّرُعَنْ کُلِّ فِعْلٍ فَاضِلٍ ظَاہِرًا وَبَاطِنًا بِالصِّدْقِ فَیُضَافُ اِلَیْہِ ذٰلِکَ الْفِعْلُ الَّذِیْ یُوْصَفُ بِہٖ نَحْوَ قَوْلِہٖ تَعَالیٰ فِیْ مَقْعدِ صِدْقٍ وَاَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِّی لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْآخِرِیْنَ (مفردات) صدق سے مراد ہر وہ فعل ہوتا ہے جو ظاہر و باطن میں خوبی رکھتا ہو۔اور جس فعل کی صدق کو صفت بنانا ہو اس کو صدق کی طرف مضاف کر دیتے ہیں۔جیسے کہ قرآن کریم میں ہے۔فِيْ مَقْعَدِ صِدْقٍ (القمر:۵۶ )