تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 251

کا قرب حاصل کررہے ہیں۔تم نہ دیکھو تو اس میں ان کا کیا قصور ہے۔اصل فضیلت وہ ہے جو خدا تعالیٰ کے ہاں فضیلت ہو نادان انسان صرف دنیا کی فضیلت کو فضیلت سمجھتا ہے۔خدارسیدہ کے نزدیک اصل فضیلت وہ ہے جو خدا تعالیٰ کے ہاں ہو۔حضرت نوح ؑ تو یہ دیکھتے تھے کہ ان کے اتباع قرب الٰہی کی راہوں میں ترقی کررہے ہیں۔اور کفار ان کے کپڑوں اور کھانوں کو دیکھ رہے تھے۔اس قدر مختلف نقطۂ نگاہوں سے ایک نتیجہ نہیں نکل سکتا تھا۔اس لئے دونوں کے نتیجوں میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ایک جماعت اتباع نوح علیہ السلام کو اراذل دیکھ رہی تھی دوسرا شخص ان کو شریف ترین وجود پاتا تھا۔حضرت نوح ؑ کے اتباع کی قربانیاں وَ لٰكِنِّيْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ سے ان قربانیوں کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے جو حضرت نوح علیہ السلام کے اتباع کررہے تھے۔کیونکہ نبی پر ابتداء میں ایمان لانا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی۔بلکہ آگ میں کودنے سے کم یہ فعل نہیں ہوتا۔پس حضرت نوح ؑ اپنے مخالفین کو توجہ دلاتے ہیں کہ کیا تم لوگ ان کی قربانیوں کو نہیں دیکھتے؟ ان کا ایمان اور اخلاص دیکھ کر بھی انہیں کہنا کہ ان کا ایمان صرف ظاہری ایمان ہے کس قدر بے وقوفی کی بات ہے۔وَ يٰقَوْمِ مَنْ يَّنْصُرُنِيْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا اور اے میری قوم اگرمیں ان کو رد کر دوں۔تو اللہ کی طرف سے (آنے والی اس فعل کی سزا سے مجھے بچانے کے لئے ) تَذَكَّرُوْنَ۰۰۳۱ کون میری مدد کرے گا پھر کیا تم (پھر بھی) نہیں سمجھتے۔تفسیر۔آپ کے اتباع پر جو ارذل ہونے کا الزام لگایا گیا تھا اس کا مزید جواب حضرت نوح ؑ اس طرح دیتے ہیں کہ ان کو رذیل کہنے سے تمہاری غرض تو یہی ہے نہ کہ میں ان کو اپنے پاس سے جدا کردوں۔لیکن اتنا تو سوچو کہ مجھے تم سے تو کوئی غرض نہیں لیکن خدا تعالیٰ سے غرض ہے پھر یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ میں تمہیں خوش کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کو ناراض کرلوں۔جب تم لوگوں کی خاطر جو ایمان نہیں لائے میں ایمان لانے والوں کو نکال دوں گا تو اللہ تعالیٰ نے جو میری نصرت کا سامان پیدا کیا ہے اس کی ناقدری کرنے کے سبب سے یقیناً وہ مجھ سے ناراض ہوگا اور اس کی ناراضگی کے بعد میں اس عظیم الشان فرض کو کس طرح ادا کرسکوں گا۔جو اس نے میرے ذمہ لگایا ہے؟