تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 250
اپنے پاس سے دھتکار دوں اور دور کر دوں۔دوسرے یہ کہ جب میں کسی سے کچھ طلب نہیں کرتا تو میرے نزدیک غریب و امیر برابر ہو گئے۔پھر میں کیوں انہیں دھتکار وں؟ میرے نزدیک تو ایمان کا سوال ہی اہمیت رکھتا ہے۔اور ایمان ان لوگوں کو حاصل ہے۔پس جو چیز میری نظر میں عزت ہے جب وہ انہیں حاصل ہے تو تمہارا یہ اعتراض کہ یہ اراذل ہیں میری نظر میں کیا وقعت رکھتا ہے؟ اپنے اتباع کے ایمان و اخلاص کا اثبات دوسرا اعتراض آپ کے مریدوں پر کفار نے یہ کیا تھا کہ یہ لوگ ظاہر میں ایمان لائے ہیں۔ان کے دلوں میں ایمان نہیں۔اس کا جواب یہ دیا کہ جس طرح میں ان سے کچھ نہیں مانگ رہا یہ لوگ بھی مجھ سے کچھ نہیں لے رہے۔پھر میرا کیا حق ہے کہ ان کے ایمان کی نسبت شبہ کروں۔یہ خدا تعالیٰ کے فضل کے طالب ہیں اور وہ عالم الغیب ہے۔آخر یہ اس کے سامنے پیش ہوں گے اور اس کی ملاقات ان کو نصیب ہوگی جو ان میں سے جھوٹا ہوگا خدا تعالیٰ خود اس سے مناسب معاملہ کرے گا مجھے اس جھگڑے میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے؟ میں جھوٹا نہیں بلکہ تم بد اخلاق ہو تیسرا اعتراض نوح علیہ السلام کے دشمنوں کا یہ تھا کہ تم کو ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے بلکہ تم جھوٹ بولتے ہو اور اس طرح ادنیٰ درجہ کے لوگ ہو۔اس کا جواب یہ دیا کہ میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ سچائی سے منہ موڑ رہے ہو۔یعنی تم کو یہ خوب معلوم ہے کہ ہمارے اخلاق کیسے ہیں۔اور آیا ہم جھوٹ بولتے ہیں یا سچ بولتے ہیں؟ لیکن تم دشمنی کی وجہ سے ان امور کو چھپاتے ہو اور تجاہل سے کام لیتے ہو۔حضرت نوح ؑکا اپنی پہلی زندگی کو اپنی سچائی کے ثبوت میں پیش کرنا یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ جو نبی بھی آتا ہے اس کی دعویٰ سے پہلے کی زندگی بھی نہایت ہی راستبازی کی زندگی ہوتی ہے۔وہ جھوٹ سے ہمیشہ سے محفوظ چلا آیا ہوتا ہے اور حضرت نوح علیہ السلام اس قاعدہ سے مستثنیٰ نہیں ہوسکتے تھے۔حضرت نوح علیہ السلام اس جگہ اس امر کو پیش کرتے ہیں کہ میری سچائی کے تو تم بھی قائل ہو ہاں دعویٰ کے بعد دشمنی کی وجہ سے الزام لگانے لگے ہو۔مُلٰقُوْا رَبِّهِمْ کے معنی واصل باللہ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ تم تو کہتے ہو کہ انہیں کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوئی لیکن میں تو ان کے چہروں سے محسوس کرتا ہوں کہ وہ لوگ واصل باللہ ہورہے ہیں۔تم لوگ خود علم روحانی سے کورے ہو۔اسی لئے تمہیں ان کے چہروں سے ایمان نظر نہیں آتا۔تم کہتے ہو مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ کہ ہمیں تمہاری اپنے پر کوئی فضیلت نظر نہیں آتی۔حالانکہ خدا کا فضل ہورہا ہے اور یہ لوگ خدا