تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 252

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَيْبَ وَ اور میں تم سے (یہ) نہیں کہتا (کہ) اللہ (تعالیٰ) کے خزانے میرے پاس ہیں۔اور نہ (یہ کہ) میں غیب کا علم رکھتا لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّيْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ تَزْدَرِيْۤ ہوں اورنہ میں (یہ) کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اورنہ میں ان (لوگوں) کے متعلق جنہیں تمہاری آنکھیں حقارت اَعْيُنُكُمْ لَنْ يُّؤْتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِيْۤ (کی نگاہ )سے دیکھتی ہیں (یہ) کہتا ہوں (کہ) اللہ (تعالیٰ) انہیں (کبھی) کوئی بھلا ئی نصیب نہیں کرے گا۔جو کچھ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّيْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ۰۰۳۲ ان کے نفسوں میں ہے اسے اللہ (ہی سب سے) بہتر جانتا ہےاس صورت میں میں یقیناً( یقیناً) ظالموں میں سے ہوں گا۔حلّ لُغَات۔اِزْدَرٰی تَزْدَرِیْ اِزْدَرَاہُ۔اِحْتَقَرَہٗ اسے حقیر سمجھا۔وَاسْتَخَفَّ بِہٖ اسے ذلیل سمجھا۔(اقرب) تفسیر۔بشریت اور نبوت میں کوئی تضاد نہیں مخالفین کے اعتراضوں کا حضرت نوح ؑ ایک نئے پیرایہ میں جواب دیتے ہیں۔اور فرماتے ہیں کہ تم لوگوں کو یہ اعتراض ہے کہ میں تمہارے جیسا بشر ہوں لیکن میرے دعویٰ اور بشر ہونے میں کوئی مخالفت نہیں ہے۔میں تو ایک پیغامبر ہوں۔اور پیغامبر کے لئے ضروری نہیں کہ وہ ان لوگوں سے جن کی طرف وہ بھیجا گیا ہو مختلف الماہیۃ ہو۔بلکہ اس کا تو ان سے متحد ہونا ضروری ہے ہاں اگر میں یہ کہتا کہ خدا تعالیٰ نے اپنی خدائی میرے سپرد کردی ہے تو بے شک تم یہ مطالبہ کرسکتے تھے کہ ہمارے جیسا ایک بشر خدا تعالیٰ کی خدائی کس طرح سنبھال سکتا ہے۔مگر مجھے تو یہ دعویٰ ہرگز نہیں بلکہ صرف یہ دعویٰ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے اس علم کو جو وہ بندوں پر ظاہر کرنا چاہتا ہے میرے ذریعہ سے ظاہر کرتا ہے۔اِن اَرَاذِلکہلانے والوں کو بڑے بڑے مراتب اور انعامات عطا ہونے والے ہیں دوسرے اعتراض کا جو آپ کے اتباع پر تھا اس طرح مزید جواب دیتے ہیں کہ تم تو ان کے موجودہ حالات پر قیاس