تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 209
جملہ کے بیان کے یہی معنی ہوسکتے ہیں کہ اس لئے ہم صفات کو ظاہر کرتے ہیں تاکہ تم اعلیٰ سے اعلیٰ عمل کرو۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صفات کا ظہور اسی لئے ہوتا ہے کہ انسان ان کی نقل کرے۔انسان اللہ تعالیٰ کی حکومت سے باہر کسی طرح نہیں ہوسکتا كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ میں اس طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ جب ہماری حکومت تمہاری پیدائش کی تمام کڑیوں پر ہے تو تم ہماری حکومت سے باہر کس طرح جاسکتے ہو۔پانی سے مراد کلام الٰہی دوسرے معنیكَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ کے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اپنی صفات کا ظہور کلام الٰہی سے وابستہ کیا ہوا ہے۔قرآن کریم میں متعدد جگہ کلام الٰہی کو پانی سے مشابہت دی ہے۔پس ہوسکتا ہے کہ اس جگہ مَآء سے مراد کلام الٰہی ہی ہو۔صفات الٰہیہ کے ظہور کی کلام الٰہی سے وابستگی کی وجہ اور یہ بتایا گیا ہو کہ ہم نے کلام الٰہی سے اس لئے اپنی صفات کے ظہور کو وابستہ کیا ہے تاکہ تم کو عمل کی طرف توجہ ہو۔اگر روحانی ترقیات کے ساتھ جسمانی نعمتوں کے حصول کا سلسلہ بھی نہ لگادیا جاتا تو شاید کئی لوگ روحانی ترقیات سے محروم رہ جاتے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ سنت مقرر کردی ہے کہ كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِيْ (المجادلۃ :۲۲) میں نے یہ بات اپنے پر فرض کر لی ہے کہ میں اور میرے رسول دنیا میں غالب ہوکر رہیں گے۔پس کلام الٰہی جن پر نازل ہوتا ہے انہیں اور ان کی امتوں کو دنیاوی غلبہ بھی حاصل ہوتا ہے تاکہ یہ ظاہر ہو کہ اس امت نے طاقت کے حصول کے بعد کلام الٰہی پر کس طرح عمل کیا۔مسئلہ ارتقاء اس آیت میں اسلامی ارتقاء یعنی ایوولیوشن تھیوری بھی بیان ہوگئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے پانی یعنی سلسلہ حَیَاۃ پر اپنا عرش اس لئے رکھا تاکہ حیوانات میں قابلیتوں کا مقابلہ ہو اور آخر میں یہ امر ظاہر ہوجائے کہ ان میں سے کون اصل مقصود بننے کے قابل ہے۔یعنی پیدائش حیاۃ کا اصل مقصد آخر میں ایک ایسے وجود کا پیدا کرنا تھا جو حیاۃ کے اعلیٰ سے اعلیٰ جلوے دکھاسکتا ہو۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ انسان کی پیدائش مختلف ادوار حیاۃ کے آخری دور میں ہوئی ہے۔پس گویا اسلام گوبند ریا کسی اور جانور سے ترقی کرکے انسان کی پیدائش تو تسلیم نہیں کرتا لیکن یہ ضرور تسلیم کرتا ہے کہ حیاۃ کی ادنیٰ حالت سے ترقی کرتے کرتے آخر میں انسانی پیدائش کا دور آیا ہے۔گو اس کی پیدائش شروع سے ہی ایسے رنگ میں چلائی گئی تھی کہ اس سے انسان ہی پیدا ہونا تھا۔یہ طریق پیدائش بتا رہا ہے کہ انسان کے لئے موت کے بعد دوبارہ حیات مقدر ہے وَ لَىِٕنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ طریق پیدائش ہی صاف ظاہر کرتا ہے کہ انسان کو موت کے