تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 210

بعد پھر دوبارہ حَیَاۃ حاصل ہو۔کیونکہ اس قدر وسیع عالم کا پیدا کرنا جس میں ایک بالارادہ ہستی یعنی انسان بس سکے صاف بتا رہا ہے کہ اس کی حَیَاۃ کا کوئی خاص مقصد ہے۔لیکن دوسری طرف اس دنیا کی زندگی کو دیکھا جائے تو دارالابتلاء نظر آتی ہے۔اور آزمائش کی جگہ عارضی ہوتی ہے۔جیسے امتحان کا کمرہ مستقل رہائش کے لئے نہیں ہوا کرتا۔بلکہ امتحان دینے کے وقت تک انسان اس میں ٹھہرتا ہے۔پھر دارالابتلاء میں اخفاء کا پہلو غالب ہوتا ہے اور دارالجزاء میں اظہار کے پہلو کا غالب ہونا ضروری ہوتا ہے۔اب چونکہ اس دنیا میں اخفاء کا پہلو غالب نظر آتا ہے حتیٰ کہ بہت لوگ خود اللہ تعالیٰ کی ہستی تک کے بھی منکر ہیں پس ان حالات سے صاف پتہ لگتا ہے کہ اس دارالابتلاء سے نکال کر اسے دارالجزاء میں لے جانا ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ اگر تو ان کو کہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عالم کو ترقی دیتے دیتے انسان کو پیدا کیا ہے اور اسے پیدائش عالم کا مقصود بنایا ہے تو یہ اس امر کو مان لیتے ہیں (جیسے کہ دہریہ تک ایوولیوشن تھیوری کو مانتے ہیں) لیکن جب تو اس کا عقلی نتیجہ ان کے سامنے پیش کرے کہ تب تو انسانی حیاۃ کا دور اس دنیا میں ختم نہیں ہوسکتا بلکہ ضرور ہے کہ مرنے کے بعد بھی اس کے لئے ایک زندگی کو تسلیم کیا جائے تو اس کا وہ انکار کردیتے ہیں۔وَ لَىِٕنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ اور یہ (بھی) قطعی امر ہے کہ اگر ہم اس عذاب کو (ایک اندازہ کی ہوئی) مدت تک ان سے پیچھے ہٹائے رکھیں تو وہ لَّيَقُوْلُنَّ مَا يَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا يَوْمَ يَاْتِيْهِمْ لَيْسَ مَصْرُوْفًا یقیناً یقیناً کہیں گے (کہ) کون سی بات اسے روک رہی ہے سنو جس وقت وہ ان پر آئے گا تو ان سے ہٹا یا نہیں جائے عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ۠ؒ۰۰۹ گا اور جس (عذاب) پر وہ ہنسی کرتے تھے وہ انہیں گھیر لے گا۔حلّ لُغَات۔اَلْاُمَّۃُ۔الْاُمَّۃُ الْجَمَاعَۃُ۔جماعت گروہ۔اَلْجِیْلُ مِنْ کُلِّ حَیٍّ۔قوم، بڑا گروہ۔الطَّرِیْقَةُ طریقہ، الدِّیْنُ مذہب۔اَلْحِیْنُ وقت، زمانہ، عرصہ۔(اقرب) حَاقَ حَاقَ بِہٖ یَحِیْقُ حَیْقًا وَحُیُوْقًا وَحَیَقَانًا۔اَحَاطَ بِہٖ اس کا احاطہ کرلیا۔حَاقَ بِہِمْ الْاَمْرُ۔