تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 208
سِـحْرٌ اَلسِّحْرُکُلُّ مَا لَطُفَ مَأْخُذُہٗ وَدَقَّ۔ہر وہ بات جس کی اصلیت ایک مخفی راز ہو۔وَقِیْلَ اِخْرَاجُ الْبَاطِلِ فِی صُوْرَۃِ الْـحَقِّ۔جھوٹ کو سچ بنا کر دکھانا وَاِطْلَاقُہٗ عَلٰی مَایَفْعَلُہٗ مِنَ الْـحِیَلِ حَقِیْقَۃً لُغْوِیَّۃً اور حیلوں اور چالاکیوں کے معنوں میں اس کا استعمال لغت کی رو سے اس کا اس کے حقیقی معنوں میں استعمال ہے۔سَـحَرَہٗ عَمِلَ لَہُ السِّحْرَ وَخَدَعَہٗ۔سَـحَرَہٗ کے معنی ہیں اپنی چالاکی سے دوسرے کو دھوکا دیا۔(اقرب) تفسیر۔ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ روحانی قوتوں کے نشوونما کے لئے کوئی سامان پیدا نہ کرے فرماتا ہے کہ دیکھو خدا تعالیٰ نے کس طرح تمہاری پیدائش اور ترقی کے لئے تدریجی سامان پیدا کئے ہیں۔اور تدریجی طور پر ترقی دیتے دیتے آخر میں انسان کو پیدا کیا ہے۔کیا اس سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اس دنیا کی پیدائش میں اصل مقصود انسان ہی ہے؟ پھر سوچو کہ وہ اصل مقصود کیوں ہے؟ یقیناً اپنی روحانی قابلیتوں کی وجہ سے۔پھر کس طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان روحانی قابلیتوں کو نظرانداز کردے اور ان کے نشوونما کے لئے کوئی سامان پیدا نہ کرے؟ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَآءِکے معنی كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ قرآن کریم میں متعدد جگہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ حیاۃ کا منبع ’’مَاء‘‘ ہے۔جیسے فرماتا ہے اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِيْنٍ۔( المرسلات :۲۱) فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ۔خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍ (الطارق:۶،۷) وَ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا (الفرقان :۵۵) اَوَ لَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ١ؕ اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ (الانبیاء:۳۱) غرض قرآن کریم نے متواتر بتایا ہے کہ حَیَاۃ کی پیدائش ’’مَاء‘‘ سے ہے۔پس كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ میں اسی طرف اشارہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کاملہ کا ظہورحَیَاۃ کے ذریعہ سے ہوا ہے۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ عرش یعنی صفات کاملہ کا ظہور انسان ہی کے ذریعہ سے ہوتا ہے جوحَیَاۃ کی آخری کڑی ہے۔لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا بھی انہی معنوں کی تصدیق کرتا ہے۔کیونکہ اصلی پانی پر اگر عرش رکھا ہوا ہو تو اس سے انسان کے اعمال کی آزمائش کس طرح ہوسکتی ہے۔ہاں جو معنی اوپر کئے گئے ہیں ان کے رو سے دونوں فقرے بالکل مطابق ہوجاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے جاندار اشیاء سے اپنی صفات کاملہ کے ظہور کو وابستہ کر دیا ہے۔اور اس طرح وہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون سا انسان ان صفات سے فائدہ اٹھا کر دوسرے بنی نوع انسان سے زیادہ ترقی کر جاتا ہے۔انسان کو مظہر صفات الٰہیہ بننے کے لئے پیدا کیا ہے لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ انسان کو صفات الٰہیہ کا مظہر بننے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔کیونکہ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ کے بعد اس