تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 207
جس کو مُسْتَقَرْ اور مُسْتَوْدَعْ کا علم نہ ہو وہ رزق بھی مہیا نہیں کرسکتا۔کیونکہ جب منازل کا علم نہ ہو تو انسان تقسیم غذا میں غلطی کر جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ انسانی بنائی ہوئی تعلیموں میں یا تو صرف مُسْتَقَرْ کا لحاظ رکھا گیا ہے اور جسم کو اس قدر نظرانداز کر دیا گیا ہے کہ اس کی وجہ سے روحانی ترقی سے بھی انسان محروم رہ گیا ہے کیونکہ برتن کی خرابی سے اس کے اندر پڑی ہوئی چیز بھی خراب ہو جاتی ہے اور یا پھر مُسْتَوْدَعْ کا ہی خیال رکھا گیا ہے اور جسم کی تربیت پر ہی سب زور دے دیا گیا ہے اور روح کو بھلا دیا گیا ہے۔حالانکہ انسان کا اصل مقام روحانی ترقی کا مقام ہے۔پس جو اصل مقصد ہے اس کا خیال نہ کرکے گویا پیدائش انسان کی غرض کو ہی باطل کر دیا گیا ہے۔اور حق یہ ہے کہ انسانی عقل ان دونوں مقامات کا خیال رکھتے ہوئے صحیح غذا تجویز نہیں کرسکتی کیونکہ انسان کو قبر اور مابعدالموت کے حالات کا علم نہیں اور روحانی غذا کا تعلق اگلی دنیا کے ساتھ ہے۔پس وہ اعمال اور افکار جو اگلے جہان میں کام آتے ہیں ان کو انسان خود اپنی عقل سے معلوم نہیں کرسکتا۔وَ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ وَّ اور وہ وہ (ذات) ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ وقتوں میں پیدا کیا ہے كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ اور اس کا عرش پانی پر ہے۔تاکہ وہ تمہارا امتحان کرے (کہ )تم میں سے کس کے عمل زیادہ اچھے ہیں لَىِٕنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُوْلَنَّ اور یہ یقینی امر ہے کہ اگر تو (ان سے) کہے (کہ) تم مرنے کے بعد یقیناً اٹھائے جاؤ گے تو جن لوگوں نے انکار کیا الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ۰۰۸ ہے وہ یقیناً یقیناً کہیں گے( کہ) یہ (بات) صرف ایک دھوکہ ہے۔حلّ لُغَات۔مَاءٌ اَلْمَآءُ جِسْمٌ رَقِیْقٌ مَائِعٌ یُشْرَبُ بِہٖ۔حَیَاۃُ کُلِّ نَامٍ۔مَاءٌ کے معنی پانی کے ہیں۔جس پر ہرنشوونما پانے والی چیز کی زندگی کا مدار ہے۔(اقرب)