تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 196
کے فائدہ کے لئے ہوتے ہیں اس لئے جب وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتا تو روحانی طورپر ہلاک ہو جاتا ہے۔جس طرح کہ جسمانی غذا کے استعمال نہ کرنے پر ہلاک ہو جاتا ہے۔پھر بتایا ہے کہ جس طرح ایک نسل کے مرنے سے انسان ختم نہیں ہو جاتا بلکہ اس کے بعد اور ایک نسل اس کی قائم مقام کھڑی ہوجاتی ہے۔یہی حال روحانی سلسلوں کا ہے۔ایک سلسلہ تباہ کر دیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ ایک اور سلسلہ کو قائم کردیتا ہے۔دنیا کی ترقی بغیر دین کے قائم نہیں رہ سکتی اس سورۃ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دنیوی ترقی بیشک خدا سے جدا ہوکر بھی مل سکتی ہے لیکن دنیا میں ہمیشہ قائم رہنے والی قومیں وہی ہوا کرتی ہیں جو دنیا کے ساتھ دین کو بھی قائم رکھتی ہیں۔یعنی جو قوم اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔اسی کا نام قائم رہتا ہے۔مومن کی کافر کے مقابلہ میں فتح پھر یہ بتایا ہے کہ مومن کافر کے مقابلہ میں کیوں جیت جاتا ہے۔اور کافر مومن کے مقابلہ میں کیوں تباہ ہوتا ہے؟ اور مختلف قوموں کی مثالیں بیان کرکے بتایا ہے کہ وہ کیسی طاقتور قومیں تھیں۔لیکن ہمارے بندوں کے مقابلہ میں تباہ و برباد ہو گئیں۔چنانچہ اس سورۃ میں قوم نوح، قوم ہود، قوم صالح، قوم لوط اور قوم شعیب کا ذکر کیا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابل پر فرعون اور اس کی قوم کا ذکر کیا ہے۔درمیان میں حضرت ابراہیمؑ کا ذکر بھی آیا ہے۔مگر ان کا ذکر اصل مقصود نہیں بلکہ حضرت لوط علیہ السلام کے ذکر کے ساتھ ضمنی طور پر ان کا بھی ذکر آ گیا ہے۔اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کے واقعات کو لیا ہے۔مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر بنی اسرائیل کے ساتھ جو ان کا تعلق تھا اس کے لحاظ سے نہیں کیا بلکہ ان کے اس تعلق کے لحاظ سے کیا ہے جو انہیں فرعون کے ساتھ تھا۔اور جس کی وجہ سے فرعون اور اس کی قوم تباہ ہو گئی۔نبیوں کے حالات کوبیان کرنے کا مقصد پھر یہ بتایا ہے کہ جس قوم کے متعلق عذاب کا فیصلہ ہو جائے اس سے مومنوں کو بچتے رہنا چاہیےکیونکہ ایسی قوم کے ساتھ شامل ہونے سے انسان عذاب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے۔اور آپ کو بتایا ہے کہ ان نبیوں کے حالات اس لئے بیان کئے گئے ہیں کہ تا تیرے دل کو صدمہ نہ ہو کہ میری قوم تباہ ہورہی ہے۔بہت سے نبیوں کے مخالفین کے ساتھ ایسا ہوتا رہا ہے اور آخر میں مسلمانوں کی ترقیات کی طرف توجہ دلا کر مزید تسلی دی ہے۔اس سورۃ میں خصوصیت کے ساتھ آنے والے عذاب اور آنحضرت ؐ کی ذمہ داریوں کا ذکر ہے اس سورۃ میں اتنے عذابوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتنی ذمہ داریوں کو بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں شَیَّبَتْنِیْ ھُوْدُ(جامع ترمذی ابواب تفسیر القرآن سورۃ الواقعۃ) کہ سورئہ ہود نے مجھے بوڑھا کر