تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 195
سُوْرَۃُ ھُوْدٍ مَکِّیَّۃٌ وَھِیَ مِائَۃٌ وَّ اَرْبَعَۃٌ وَّ عِشْرُوْنَ اٰیۃً دُوْنَ الْبَسْمَلَۃِ سورہ ہود مکّی سورۃ ہے۔اور بسم اللہ کے علاوہ اس کی ایک سو چوبیس آیتیں ہیں وَ عَشَرُ رَکُوْعَاتٍ اور دس رکوع ہیں۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں) اللہ(تعالیٰ) کا نا م لے کر (شروع کرتا ہوں) جو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔سورہ ہود مکی ہے سورۃ ہود مکی سورۃ ہے۔ابن عباس، الحسن، عکرمہ، مجاہد، قتادہ، جابر بن زید کے نزدیک یہ سورۃ سب کی سب مکی ہے۔ابن عباس سے ایک روایت ہے کہ یہ سورۃ مکی ہے سوائے ایک آیت کے اور وہ فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا يُوْحٰۤى اِلَيْكَ الآیۃ ہے۔مقاتل کا قول ہے کہ یہ سورۃ مکی ہے۔سوائے ان تین آیتوں کے۔ایک آیت فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا يُوْحٰۤى اِلَيْكَ الآیۃ دوسری آیت اُولٰٓىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ جو عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں کے متعلق ہے۔تیسری آیت اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِيْنَ۔جو بنہان التمار کے متعلق ہے۔(بحر المحیط) سورۃ ہود کا خلاصہ مضمون اور پہلی سورۃ سے تعلق یہ سورۃ سورۃ یونس کے مضامین میں سے ایک مضمون کو تفصیلی طور پر بیان کرتی ہے۔سورۃ یونس میں بیان کیا گیا تھا کہ انبیاء کی اقوام سے اللہ تعالیٰ تین طرح سے معاملہ کرتا ہے۔(۱) کسی قوم کو بالکل تباہ کر دیتا ہے۔(۲) کسی قوم کو بالکل چھوڑ دیتا ہے۔(۳) اور کسی قوم کے ایک حصہ کو بالکل تباہ کرکے دوسرے حصہ کو بالکل بچا لیتا ہے۔اس سورۃ میں اوّل الذکر امر کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔اور بتایا ہے کہ کس طرح بعض اقوام کو اللہ تعالیٰ نے بالکل مٹا دیا اور ان کا نام و نشان باقی نہ رکھا اور ان کی بجائے ایک اور قوم کو کھڑا کر دیا۔جو پہلی قوموں کے تسلسل میں قائم نہیں ہوئی بلکہ اس کے ذریعے سے دنیا کا ایک نیا دور شروع ہوا۔روحانی حیاۃ مماۃ اور نسل کا قیام اس سورۃ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ بدی اور بدکاری پر نگاہ رکھتا ہے۔اور اس کے مطابق لوگوں کے ساتھ معاملہ کرتا ہے۔اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ انسانوں کی ہدایت کے لئے حسب ضرورت سامان پیدا کرتا رہتا ہے۔اور چونکہ وہ سامان خود انسان