تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 197

دیا ہے۔یعنی اس کے مضامین کا اثر مجھ پر اتنا پڑا ہے کہ اس کے نازل ہونے کے بعد میں اپنے جسم میں کمزوری محسوس کرنے لگا ہوں۔الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ الر (یہ) ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیات کو محکم کیا گیا ہے اورنیز انہیں کھول کر بیان کیا گیا ہے۔(اور یہ) حَكِيْمٍ خَبِيْرٍۙ۰۰۲ ایک حکیم اور خبیر (ہستی )کی طرف سے ہے۔حلّ لُغَات۔اُحْکِمَ اَحْکَمَتْہُ التَّجَارِبُ جَعَلَتْہُ حَکِیْمًـا تجارب نے اسے حکیم بنا دیا۔اَحْکَمَ السَّفِیْہُ اَخَذَ عَلَی یَدِہٖ مال کی قدروقیمت نہ سمجھنے والے پر مال کے خرچ کرنے میں بندش ڈال دی۔اَوْبَصَّرَہٗ مَاھُوَ عَلَیْہِ یا یہ کہ اس کی حالت پر اسے آگاہ کیا۔اَحْکَمَ الشَّیْءَ اَتْقَنَہٗ۔پختہ اور مضبوط کر دیا۔اَحْکَمَ فُلَانًا عَنِ الْاَمْرِ رَجَّعَہٗ۔ہٹا دیا۔رد کر دیا۔اَحْکَمَ الْفَرَسَ جَعَلَ لِلجَامِہٖ حَکَمَۃً (اقرب) گھوڑے کے لگام میں اس کا آہنی پرزہ ڈالا۔تَفْصِیْلُ فَصَّلَ الشَّیْءَ جَعَلَہٗ فُصُوْلًا مُتَـمَایِزَۃً اسے جداجدا حصوں میں تقسیم کیا۔فَصَلَ الثَّوْبَ قَطَعَہٗ بِقَصْدِ خِیَاطَتِہٖ۔سلائی کے لئے کپڑے کو کاٹا۔فَصَلَ الْکَلَامَ بَیَّنَہٗ و۔ضِدُّاَ جْمَلَہٗ۔کھول دیا۔مجمل نہ رہنے دیا۔فَصَلَ الْعِقْدَ جَعَلَ بَیْنَ کُلِّ خَرَزَتَیْنِ مِنْ لَوْنٍ وَاحِدٍ خَرَزَۃً اَوْمَرْجَانَۃً اَوْشَذْرَۃً اَوْجَوْھَرَۃً مُخَالِفَۃً لَھُمَا (اقرب) موتیوں وغیرہ کے ہار کے ہمرنگ منکوں کے درمیان کسی دوسرے رنگ کے مرجان یا جواہرات وغیرہ کے منکے ڈالے۔خَبِیْرٌ اَلْخَبِیْرُ الْعَارِفُ بِالْخَبَرِ۔خبر کو اچھی طرح سے جاننے والا۔اور خبر کے معنی ہیں مَایُنْقَلُ وَیُتَحَدَّثُ بِہٖ۔(اقرب) جس کو نقل کیا جائے۔یا جس کا تذکرہ کیا جائے۔یعنی ایسا امر جس سے دوسروں کے لئے دلچسپی کی وجہ موجود ہو۔وَاللہُ خَبِیْرٌ۔اَیْ عَالِمٌ بِاَخْبَارِ اَعْمَالِکُمْ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کی حقیقت سے واقف ہے۔وَقِیْلَ عَالِمُ بِبَوَاطِنِ اُمُوْرِکُمْ یعنی بعض نے اس کے یہ معنی کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اندرونی حالات سے واقف ہے۔خَبِیْرٌ بمعنی مُخْبِرٌ بھی آتا ہے یعنی خبر دینے والا (مفردات)