تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 182
حضرت یونس کا ذکر بائیبل میں علماء بائیبل کے بیان کے مطابق حضرت یونس گاتھ ہیپر (GATH HAPPER) ضلع زیبون میں پیدا ہوئے۔اس وقت یربعام (JOROBOAM) بادشاہ کا زمانہ تھا۔جس کی حکومت ۷۸۱ قبل مسیح سے ۷۴۱ تک رہی ہے(انسائیکلو پیڈیا ببلیکا آف ویسٹ منسٹر )۔اس بادشاہ کا ذکر ۲سلاطین باب ۱۴ میں آتا ہے۔بائیبل میں ایک کتاب بھی یونہ نبی کی کتاب کے نام سے درج ہے۔لیکن محققین میں اختلاف ہے کہ یونہ جس نے بنی اسرائیل کی ادو میوں سے آزادی کی خبر دی تھی وہی ہے جس کی وہ کتاب ہے یا اور کوئی شخص ہے۔بائیبل کی کتاب یونہ میں یونس نبی کا حال یوں درج ہے کہ خدا کی طرف سے ان کو نینوا NENVAH کی طرف جو کہ ایک بڑا اور شرارتی شہر تھا جانے کا حکم ہوا تھا۔اور انہیں حکم تھا کہ وہ اس کے خلاف پیشگوئی کریں۔مگر حضرت یونسؑ ڈرے کہ نینوا والے توبہ کرلیں گے اور عذاب سے بچ جائیں گے۔پس وہ بجائے نینوا کے یافا چلے گئے اور ترشیش کی طرف جانے والے ایک جہاز میں سوار ہو گئے۔لیکن دفعۃً جہاز کو طوفان نے آ گھیرا۔ملاحوں نے دیوتاؤں سے بہت دعائیں کیں۔مگر کچھ فائدہ نہ ہوا۔آخر قرعہ ڈال کر انہوں نے دریافت کیا کہ یہ عذاب کس کے سبب سے ہے؟ حضرت یونس علیہ السلام کا نام قرعہ میں نکلا۔اور انہوں نے ان سے جاکر حال پوچھا انہوں نے اپنا سب حال بتایا اور کہا کہ میں خدا تعالیٰ کے حکم سے بھاگا ہوں۔مجھے پانی میں پھینک دو۔اس طرح عذاب سے محفوظ رہوگے۔چنانچہ لوگوں نے انہیں پانی میں پھینک دیا۔اور طوفان تھم گیا۔خدا تعالیٰ نے ایک مچھلی کو حکم دیا اور وہ حضرت یونس علیہ السلام کو نگل گئی۔اس کے پیٹ میں حضرت یونس تین دن رات رہے۔آخر ان کی دعا کو اللہ تعالیٰ نے سنا اور مچھلی کو حکم دیا کہ وہ انہیں اگل دے۔چنانچہ مچھلی نے ان کو اگل دیا۔جب وہ اچھے ہوئے تو پھر خدا تعالیٰ کے حکم سے نینوا کو خبردار کرنے گئے۔اور خبر دی کہ چالیس دن تک نینوا برباد کیا جائے گا۔لیکن لوگوں نے توبہ کی اور گنہ سے باز آ گئے۔تب اللہ تعالیٰ نے عذاب کو ٹلا دیا۔حضرت یونس کو یہ امر بہت شاق گزرا۔اور وہ جنگل کی طرف چلے گئے۔وہاں اللہ تعالیٰ نے ایک ارنڈ کا درخت ان کے سایہ کے لئے اگایا۔جس کے نیچے وہ آرام کرنے لگے۔مگر پھر ایک کیڑے کے ذریعہ سے اسے تبہ کرا دیا۔سایہ کے نہ ہونے سے انہیں تکلیف ہوئی۔تو وہ بہت رنجیدہ ہوئے۔اس پر خدا تعالیٰ نے انہیں الہام کیا کہ تو ایک درخت کی ہلاکت پر جسے تو نے نہیں اگایا رنجیدہ ہوتا ہے۔تو میں اپنے لاکھوں بندوں کو جنہیں خود میں نے پیدا کیا ہے کس طرح بلاوجہ تباہ کرسکتا ہوں۔قرآن کریم کی رو سے بائیبل کے بیان پر نظر قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ بائیبل میں حضرت یونس کے متعلق جو واقعات بیان ہوئے ہیں وہ غلط ہیں۔کوئی نبی کسی حکم الٰہی کی خلاف ورزی نہیں کرتا اوّل قرآن کریم اس بات کا مخالف ہے کہ خدا کا کوئی نبی