تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 181
آیت میں رحمتِ الٰہی کی عظمت معلوم کرنے کا بے انتہاء سامان موجود ہے۔الفاظ سے کس قدر خواہش ٹپکتی ہے کہ سب کی سب دنیا ہدایت پا جائے کس قدر افسوس کا اظہار یہ الفاظ کررہے ہیں کہ کیوں یونس کی قوم کی طرح پوری کی پوری ایمان لانے والی اور اقوام نہ ہوئیں۔اس پر جب عذاب آیا تو اس قدر اخلاص سے تائب ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ کو قبول کر لیا۔اور اسے عذاب سے نجات دی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔فتح مکہ کے موقع پر سب قوم نے اطاعت قبول کرلی اور عذاب سے محفوظ ہوگئی۔آخر ایمان بھی لے آئی۔اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وارث بنی۔اور اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مثیل یونس بھی بن گئے۔حضرت یونس کا ذکر قرآن اور حدیث میں حضرت یونس جن کا اس آیت میں ذکر ہے ایک نبی ہیں۔جن کا ذکر قرآن شریف میں چھ جگہ آیا ہے۔سورۂ صٰفّٰت ع۵ میں ان کے مرسل ہونے کا ذکر ہے۔اور سورہ انعام (ع۱۰) اور سورۂ نساء (ع۲۳) میں انہیں نبیوں میں شمار کیا ہے۔سورۂ انبیاء (ع۶) اور سورۂ ن (ع۲) میں بجائے نام کے ذاالنون اور صاحب الحوت کی صفت سے ان کا ذکر کیا ہے۔کیونکہ ان کے ساتھ مچھلی کا واقعہ پیش آیا تھا۔حدیث نہی تفضیل بر یونس اور اس کے معنی احادیث میں بھی ان کا ذکر آتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا کہ مَایَنْبَغِیْ لِعَبْدٍ اَنْ یَقُوْلَ اَنَاخَیْرٌ مِنْ یُوْنُسُ ابْنِ مَتّٰی (مسلم کتاب الفضائل باب فی ذکر یونس و قول النبی ؐ ) کسی بندہ کو جائز نہیں کہ وہ یہ دعویٰ کرے کہ وہ یونس بن متی سے افضل ہے اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان سے افضل نہیں تھے۔بلکہ اس کی وجہ شارحین حدیث کے نزدیک یہ ہے کہ جس وقت یہ بات آپ نے فرمائی اس وقت تک آپ پر اپنی افضلیت واضح نہ ہوئی تھی۔لیکن بعد میں آپ نے خود فرمایا کہ اَنَا سَیِّدُ وُلْدِ اٰدَمَ۔(صحیح مسلم کتاب الفضائل باب تفضیل نبینا علی جمیع الخلائق) میں بنی نوع انسان میں سے سب سے افضل اور سب کا سردار ہوں۔آنحضرت ؐ کی قوم کا فتح مکہ کے موقعہ پر بچایا جانا میرے نزدیک اس کی ایک اور بھی وجہ ہے جو اس آیت کے مضمون سے تعلق رکھتی ہے۔اور وہ یہ کہ اس جگہ کلی فضیلت کا ذکر نہیں بلکہ جزوی فضیلت کا ذکر ہے۔اور وہ وہی فضیلت ہے جو اس آیت میں مذکور ہے۔یعنی ان کی قوم سب کی سب عذاب دیکھ کر ایمان لے آئی۔حالانکہ کسی اور نبی کی قوم کو ایسا موقع نہیں ملا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسب نہ سمجھا کہ جب تک اپنی قوم کا انجام نہ دیکھ لیں اس امر میں یونسؑ پر اپنے آپ کو فضیلت دیں۔لیکن بعد کے واقعات نے یہ فضیلت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی اور آپ کی قوم بھی غزوۂ فتح مکہ کے وقت تائب ہوئی۔اور سب کی سب ایمان لاکر عذاب سے محفوظ ہو گئی۔