تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 183

خدا تعالیٰ کا بالصراحت کوئی الہام سن کر اس کا انکار کر دے۔اگر یہ بات ہو تو پھر امان ہی اٹھ جائے۔فرماتا ہے وَمَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ(النساء: ۶۵) اور پھر فرماتا ہےفَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ (الانعام:۹۱ ) انسان کو چاہیے کہ سب نبیوں کی پیروی کرے۔اور اصلی مغز جو ان کے عمل کا ہے اس کو اپنے اندر پیدا کرے۔اگر انبیاء ایسے شدید امراض میں مبتلا ہوسکتے تو کبھی ان کی پیروی کا حکم نہ دیا جاتا۔حضرت یونس یہود کی طرف نہیں بھیجے گئے تھے دوم قرآن شریف سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یونسؑ اپنی قوم کی طرف بھیجے گئے۔اور یہودی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہودی تھے لیکن نینوا والوں کی طرف بھیجے گئے تھے۔جو کہ اشور کا دارالخلافہ تھا۔اور وہاں کے لوگ اشور قوم کے تھے۔اشور سے مراد سیریا یعنی شام کا علاقہ نہیں بلکہ یہ الگ علاقہ ہے۔اور شہر بابل کے شمال سے شروع ہوکر ارمینیا کی سرحد سے جا ملتا ہے۔اور مشرقی سمت اس کی کردستان سے ملتی ہے اور مغربی سمت دجلہ کے مغرب کے علاقہ کے ایک حصہ پر مشتمل ہے۔گویا موجودہ عراق کا ایک حصہ اس میں شامل ہے ایک زمانہ میں اس علاقہ میں زبردست حکومت قائم تھی۔اس کادارالخلافہ پہلے تو اسور تھا جو موصل سے ساٹھ میل جانب شمال واقع تھا اور اب اسے قلعات شرجت کہتے ہیں۔لیکن قریباً تیرہ سو سال قبل مسیح اس شہر کو چھوڑ کر نینوہ کو دارالحکومت قرار دیا گیا۔پس قرآن کریم کے بیان کے رو سے یا تو حضرت یونس بنی اسرائیل میں سے نہ تھے اور یا پھر وہ نینوہ کی طرف نہیں بھیجے گئے۔بلکہ کسی اسرائیلی قبیلہ کی طرف بھیجے گئے تھے۔محققین یورپ بھی اس بارہ میں مختلف الخیال ہیں کہ آیا یونس بنی اسرائیلی تھے یا نہیں۔ہر عقلمند غور کرکے سمجھ سکتا ہے کہ قرآنی بیان دونوں اختلافات کے متعلق معقول ہے اور بائیبل کابیان خلاف عقل۔وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيْعًا١ؕ اور اگر اللہ( ہدایت کے معاملہ میں) اپنی( ہی) مشیت کو نافذ کرتا تو جو (اور جس قدر) لوگ زمین پر (موجود) ہیں وہ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ۰۰۱۰۰ سب کے سب ایمان لے آتے (پس جب خدا تعالیٰ بھی مجبور نہیں کرتا )تو کیا تو لوگوں کو( اتنا) مجبور کرے گا کہ وہ مومن بن جائیں۔تفسیر۔خدا تعالیٰ لوگوں کے ایمان لانے کو پسند کرتا ہے مگر اس کے لئے مجبور نہیں کرتا پہلے فرمایا تھا کہ لَوْ لَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِيْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ يُوْنُسَ۔جس میں ایک رنگ میں اس خواہش کا