تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 161

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ (اس پر) موسیٰ نے (ان سے )کہا( کہ) کیا تم حق کی نسبت (ایسا )کہتے ہو (اور وہ بھی اس وقت) جبکہ وہ وَ لَا يُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ۰۰۷۸ تمہارے پاس آگیا ہے کیا یہ فریب (ہو سکتا )ہے حالانکہ فریب دینے والے کامیاب نہیں ہوتے۔تفسیر۔اَسِحْرٌ هٰذَا۔یعنی یہ تعلیم تمہارے سامنے موجود ہے۔اس کا اثر بھی نمایاں ہے۔اس کی تفصیلات بھی تم جان چکے ہو۔کیا پھر بھی تم اس کو سحر قرار دیتے ہو؟ یہ تو جھوٹ کا سر کچلنے والی کتاب ہے۔یہ سحر کس طرح ہوسکتی ہے۔فریبی شخص انبیاءکے مقاصد کو نہیں پا سکتا وَلَا يُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ فریب کی باتیں کرتے ہیں اور جھوٹ پھیلاتے ہیں وہ نبیوں کے مقاصد کو حاصل نہیں کرسکتے۔پس میں اگر ساحر ہوں تو اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔نبیوں کا مقصد قوم کی مذہبی، اخلاقی، تمدنی اور سیاسی حالت کو بدل ڈالنا ہوتا ہے۔خواہ جلد خواہ بدیر۔کوئی نبی اس مقصد کے بغیر نہیں آتا۔حضرت موسیٰ ؑ کہتے ہیں کہ میں ان مقاصد کو پورا کررہا ہوں۔اور ایک دن پورے طور پر پورا کرکے دکھا دوں گا۔پھر تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ جو شخص یہ تغیرات پیدا کردے وہ فریبی اور جھوٹا ہے؟ قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ انہوں نے کہا کیا تو (اس لئے) ہمارے پاس آیا ہےکہ جس بات پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اس سے لَكُمَا الْكِبْرِيَآءُ فِي الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِيْنَ۰۰۷۹ ہمیں ہٹا دے۔اور تم( دونوں) کو ملک میں بڑائی حاصل ہو جائے۔اور ہم( تو) تم پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔حلّ لُغَات۔لَفَتَ لِتَلْفِتَنَا لَفَتَ الشَّیْءَ یَلْفِتُ لَفْتًا لَوَاہُ وَصَرَفَہٗ اِلَی ذَاتِ الْیَمِیْنِ وَالشَّمَالِ پھیر دیا۔اور دائیں بائیں کر دیا۔فُلَانًا عَنْ رَأْیِہٖ اَیْ صَرَفَہٗ عَنْ رَأْیِہٖ۔رائے بدلوا دی۔(اقرب) اَلْکِبْرِیَاءُ اَلْکِبْرِیَاءُ الْعَظْمَۃُ۔بڑائی وَالتَّجَبُّرُ۔جبر سے کام لینا۔چیرہ دستی وَفِی اللِّسَانِ اَلْعَظْمَۃُ وَالْمُلْکُ۔لسان العرب میں ہے کہ اس کے معنی بڑائی اور حکومت کے ہیں۔وَقِیْلَ ھِیَ عِبَارَۃٌ عَنْ کَمَالِ