تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 162

الذَّاتِ وَکَمَالِ الْوَجُوْدِ وَلَا یُوْصَفُ بِہَا اِلَّا اللہُ تَعَالٰی۔اور بعض کہتے ہیں کہ اس کے معنی ذاتی کمال کے ہیں۔اور سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو اس لفظ سے موصوف نہیں کیا جاسکتا۔گویا جب بندے کے لئے یہ لفظ آتا ہے تو ہمیشہ برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔یعنی تجبر کے معنوں میں۔فِی الْاَرْضِ۔اس ملک میں نہ یہ کہ ساری دنیا میں۔تفسیر۔سحر مبین میں دو اعتراض سِحْرٌ مُّبِيْنٌ میں جو دو اعتراض مختصر الفاظ میں بتائے گئے تھے اس آیت میں ان کی تشریح کر دی گئی ہے۔پہلے حصۂ آیت میں کفار کے سرداروں کا یہ اعتراض نقل کیا گیا ہے کہ یہ شخص ہمیں باپ دادا کی تعلیم سے پھرانا چاہتا ہے۔اور اکثر لوگوں کے نزدیک وہی حق ہوتا ہے جس پر کہ ان کے باپ دادے چلتے آئے ہوں۔پس دوسرے لفظوں میں انہوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ شخص ہمیں حق سے پھرانا چاہتا ہے۔مگر اس مضمون کو ایسے رنگ میں بیان کیا ہے کہ عوام الناس میں خوب جوش پھیل جائے۔دوسرا اعتراض یہ تھا کہ یہ شخص تفرقہ ڈالنا چاہتا ہے۔اسے اس آیت میں ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے کہ موسیٰ اور ہارون حکومت چاہتے ہیں۔اور حکومت حاصل کرنے کا ذریعہ یہی ہوا کرتا ہے کہ موجودہ نظام سے تعلق رکھنے والے افراد میں تفرقہ ڈلوا دیا جائے۔وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِيْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِيْمٍ۰۰۸۰ اور فرعون نے (اپنے لوگوں سے) کہا (کہ) تم میرے پاس( ملک بھر کے) ہر ایک کامل واقفیت والے ساحر کو لے آؤ۔تفسیر۔ایک غلطی سے دوسری غلطی کا ارتکاب دیکھو ایک غلطی سے انسان کس طرح دوسری غلطی کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے۔خدا کے برگزیدہ نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ساحر کہا تو نتیجہ یہ نکلا کہ خود بھی علمی تحقیق سے محروم رہ گئے۔اور اپنے بچھائے ہوئے جال میں خود پھنس گئے۔ساحر کہا تو ان کے مقابلہ کے لئے ساحروں ہی کی تلاش ہوئی۔فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ۰۰۸۱ پس جب ساحر( لوگ) آئے تو موسیٰ نے انہیں کہا( کہ) جو کچھ تمہیںڈالنا ہے ڈالو۔تفسیر۔حضرت موسیٰ کا استغناء جب جادوگر آئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا کہ