تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 160
بدی بدی کی طرف مائل کرتی ہے۔پس یہ بھی سچ ہے کہ جو لوگ مجرم ہوتے ہیں وہ صداقت کے قبول کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔اور یہ بھی سچ ہے کہ صداقت کا انکار کرکے انسان کے تقویٰ کو سخت صدمہ پہنچتا ہے۔اور اگر پہلے اس شخص میں خشیت الٰہی ہوتی بھی ہے تو صداقت کے انکار کے بعد یکدم یا آہستگی سے جاتی رہتی ہے۔پس صداقت کا انکار کوئی معمولی چیز نہیں۔جو شخص تقویٰ کی کچھ بھی قدر کرتا ہو اسے اس سے بچنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا پھر جب ہماری طرف سے ان کے پاس حق آیا تو انہوں نے کہہ دیا( کہ) یہ یقیناً یقیناً ایک (تعلقات کو) کاٹ لَسِحْرٌ مُّبِيْنٌ۰۰۷۷ دینے والا فریب ہے۔حلّ لُغَات۔اَبَانَ۔مُبِیْنٌ اَبَانَ سے ہے۔اس کے معنی ہیں فَصَلَ جدا کیا۔الشَّیْءَ اِتَّضَحَ واضح ہوا۔اَلشَّیْءَ اَوْضَحَ۔واضح کیا۔(اقرب) تفسیر۔جب کبھی کوئی سچائی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے تو لوگ اسے سِحْرٌ مُبِیْنٌ کہہ دیتے ہیں۔اور ان دو لفظوں میں شرارت کی ساری صورتیں مخفی ہیں۔دنیا میں ہمیشہ دو ہی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔مذہبی اور سیاسی۔سِحْرٌ یعنی فریب کہہ کر ان لوگوں کو بھڑکانے کی کوشش کی جاتی ہے جو مذہبی ہوتے ہیں۔انہیں ڈرایا جاتا ہے کہ یہ فریب ملک کے مذہب کو بگاڑ دے گا۔اور مُبِیْنٌ کہہ کر سیاسی لوگوں کو اکسایا جاتا ہے کہ یہ صرف ایک فریب نہیں بلکہ قوم میں تفرقہ ڈال دینے والا فریب ہے۔پس اگر قوم کی خیرخواہی مدنظر ہے تو اس کا مقابلہ کرو۔ورنہ قوم ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی۔جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے۔یہ شیطانی حربہ برابر استعمال ہو رہا ہے اور ابھی تک بیکار نہیں ہوا۔اس زمانہ کے مصلح کے مقابلہ میں بھی یہی حربہ استعمال کیا گیا۔اور کیا جارہا ہے۔اور لوگ ہیں کہ قرآن کریم میں ان سب امور کو پڑھتے ہوئے غور اور تدبر سے کام نہیں لیتے اور نہیں سوچتے کہ قوم تو پہلے ہی سے مٹ چکی تھی۔تفرقہ کس میں ڈالنا تھا۔اگر بنانا ہی تفرقہ ہوتا ہے تو تفرقہ نہ معلوم کسے کہتے ہیں؟