تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 141

قَالَ ثُمَّ یُؤْتٰی بِرَجُلٍ مِنَ الصِّنْفِ الثَّانِیْ فیَقُوْلُ عَبْدِیْ لِمَاذَا عَمِلْتَ فَیَقُوْلُ یَارَبِّ خَلَقْتَ نَارًا وَخَلَقْتَ اَغْلَالًاوَخَلَقْتَ سَعِیْرَھَاوَسَمُوْمَھَاوَیَحْمُوْمَھَاوَمَااَعْدَدْتَّ لِاَعْدَائِکَ وَاَھْلِ مَعْصِیَتِکَ فِیْھَا فَاسْھَرْتُ لَیْلِیْ واظْمَأْتُ نَھَارِیْ خَوْفًا مِنْھَا فَیَقُوْلُ عَبْدِیْ اِنَّمَا عَمِلْتَ ذٰلِکَ خَوْفًا مِّنْ نَارِیْ فَاِنِّیْ قَدْاعْتَقْتُکَ مِنَ النَّارِ وَمِنْ فَضْلِیْ عَلَیْکَ اَنْ أُدْخِلَکَ جَنَّتِیْ فَیَدْخُلُ ھُوَ وَمَنْ مَعَہُ الْجَنَّۃَ ثُمَّ یُؤْتِٰی بِرَجُلٍ مِنَ الصِّنْفِ الثَّالِثِ فَیُقُوْلُ عَبْدِیْ لِمَاذَا عَمِلْتَ فَیَقُوْلُ حُبًّالَکَ وَشَوْقًا اِلَیْکَ وَعِزَّتِکَ قَدْأَسْہَرْتُ لَیْلِیْ وَاظْمَأْتُ نَھَارِیْ شَوْقًا اِلَیْکَ وَحُبًّا لَکَ فَیَقُوْلُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اِنَّمَا عَمِلْتَ حُبًّا لِیْ وَشَوْقًا اِلَّی فَیَتَجَلّٰی لَہُ الرَّبُّ جَلَّ جَلَالُہُ فَیَقُوْلُ ھَااَنَا ذَا فَانْظُرْ اِلَیَّ ثُمَّ یَقُوْلُ مِنْ فَضْلِیْ عَلَیْکَ اَنْ أُعْتِقَکَ مِنَ النَّارِ وَأُبِیْحَکَ جَنَّتِیْ وَأُزِیْرَکَ مَلَائِکَتِیْ وَأُسَلِّمُ عَلَیْکَ بِنَفْسِیْ فَیَدْخُلُ ھُوَ وَمَنْ مَعَہُ الْجَنَّۃَ۔یعنی جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ کے اولیاء کو لایا جاوے گا اور وہ خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے۔اور تین قسموں میں انہیں تقسیم کیا جائے گا۔پہلے ایک قسم کا ایک آدمی لایا جائے گا۔اسے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ اے میرے بندے! تو نے (نیک) اعمال کس وجہ سے کئے تھے؟ وہ عرض کرے گا۔کہ اے میرے رب! آپ نے جنت پیدا کی اور اس کے درخت اور پھل پیدا کئے اور نہریں پیدا کیں اور اس کی حوریں اور اس کی نعمتیں اور جو کچھ بھی آپ نے اپنی اطاعت کرنے والوں کے لئے طیار کیا ہے سب کچھ بنایا۔پس میں نے ان چیزوں کو حاصل کرنے کے لئے شب بیداری کی اور دن کو روزے رکھے۔اس پر خدا تعالیٰ اسے فرمائے گا اے میرے بندے! تو نے صرف جنت کی خاطر نیک اعمال کئے سو یہ جنت ہے اس میں داخل ہو جا۔اور یہ میرا فضل ہی ہے کہ میں نے تجھ کو آگ سے آزاد کردیا اور یہ بھی فضل ہے کہ میں تجھے جنت میں داخل کروں گا۔پس وہ اور اس کے ساتھی جنت میں داخل ہوجائیں گے۔پھر دوسری قسم کے آدمیوں میں سے ایک آدمی لایا جائے گا۔اس سے بھی اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ اے میرے بندے! تو نے (نیک) اعمال کس غرض سے کئے تھے؟ وہ جواب دے گا کہ اے میرے رب تو نے دوزخ پیدا کی اور اس کی بیڑیاں اور اس کی شعلہ زن آگ اور اس کی بادسموم اور گرم پانی۔اور جو کچھ بھی تو نے اپنے نافرمانوں اور دشمنوں کے لئے تیار کیا ہے پیدا کیا۔پس میں نے ان چیزوں سے ڈرتے ہوئے شب بیداری کی اور دن کو روزے رکھے۔اس پر خدا تعالیٰ فرمائے گا اے میرے بندے !تو نے یہ کام صرف میری آگ سے ڈرتے ہوئے کئے تھے۔پس میں نے تجھے آگ سے آزاد کیا۔اور اپنے فضل سے تجھے جنت میں داخل کروں گا۔پس وہ اپنے ساتھیوں سمیت جنت میں داخل ہو جاوے گا۔اس کے بعد