تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 142

تیسری قسم کے لوگوں میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا۔اس سے خدا تعالیٰ پوچھے گا اے میرے بندے! تو نے (نیک) کام کس وجہ سے کئے تھے؟ وہ جواب دے گا اے میرے رب! تیری محبت کی وجہ سے اور تیرے ملنے کے اشتیاق میں۔تیری عزت کی قسم میں راتوں کو جاگا اور دن کو میں نے روزے رکھے۔صرف تیرے اشتیاق اور تیری محبت میں پس مبارک اور بلند و بالا خدا اسے فرمائے گا اے میرے بندے! تو نے یہ تمام نیک کام میری محبت اور میری ملاقات کے شوق کی وجہ سے کئے تھے سو اپنا بدلہ لے اور اللہ جل جلالہ اس شخص کے لئے خاص تجلی فرمائے گا اور سارے پردوں کو اپنے چہرے سے دور کر دے گا اور اس کے سامنے آجائے گا۔اور کہے گا اے میرے بندے! لے میں یہ موجود ہوں۔میری طرف دیکھ۔پھر فرمائے گا میں نے اپنے فضل سے تجھے آگ سے آزا دکیا۔اور جنت کو تیرے لئے جائز کرتا ہوں۔اور فرشتوں کو تیرے پاس بھیجوں گا۔اور میں خود تجھے سلام کہوں گا۔پس وہ اپنے ساتھیوں سمیت جنت میں داخل ہو جائے گا۔اولیاء اللہ کے سردار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے یہ جو اس حدیث میں آتا ہے کہ ہر قسم کے لوگوں میں سے ایک شخص آگے بڑھایا جائے گا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے لوگوں میں سے جو کامل ترین اصناف میں سے ہوگا اس سے اللہ تعالیٰ کلام کرے گا۔اور گویا بطور نمائندہ کے اپنے حضور میں اسے بلائے گا۔آخری جماعت جو سب سے کامل جماعت اور ولایت کے اعلیٰ سے اعلیٰ مقامات کو پہنچی ہوئی ہے اس کے قائم مقام یقیناً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے کیونکہ آپ ہی وہ شخص ہوں گے جنہوں نے وفات کے وقت نہایت بے تابی سے کہا اَلرَّفِیْقُ الْاَعْلٰی الرَّفِیْقُ الْاَعْلٰی(بخاری کتاب المغازی باب آخر ما تکلم النبیؐ)۔یعنی میں اپنے رب سے ملنا چاہتا ہوں۔اپنے رب سے ملنا چاہتا ہوں۔اولیاء اللہ پر انبیاء و شہداء کا رشک کرنا اولیاء اللہ کے مختلف مدارج کے متعلق اور بھی بعض حدیثیں آئی ہیں۔چنانچہ ایک روایت ابوداؤد میں آئی ہے۔ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مِنْ عِبَادِاللہِ عِبادٌ یَغْبِطُہُمْ الْاَنْبِیَآءَ وَالشُّہَدَآء قِیْلَ مَنْ ھُمْ یَارَسُوْلَ اللہِ لَعَلَّنَا نُحِبُّہُمْ قَالَ ھُمْ قَوْمٌ تَحَابَّوْا فِی اللہِ مِنْ غَیْرِ اَمْوَالٍ وَلااَنْسَابٍ۔وُجُوْھُہُمْ نُوْرٌ عَلٰی مَنَابِرَ مِنْ نُوْرٍ لَایَخَافُوْنَ اِذَا خَافَ النَّاسُ وَلَا یَحْزَنُوْنَ اِذَا حَزِنَ النَّاسُ (ابوداؤد بہ حوالہ ابن کثیر جلد ۵ زیر آیت ہٰذا) یہ حدیث تفسیر ابن جریر میں بھی آئی ہے۔صرف راویوں کا فرق ہے۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے بندوں میں سے بعض ایسے بندے ہیں جن پر انبیاء اور شہداء بھی رشک کرتے ہیں۔اس پر صحابہ کرام نے عرض کی یارسول اللہ! وہ کون ہیں تاکہ