تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 140
اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جس سے تعلق پیدا کرکے انسان کامل چین پاسکتا ہے۔مگر افسوس !کہ لوگ اسی طرف سب سے کم توجہ کرتے ہیں۔اور اپنے دردوں کا علاج ان دروازوں سے تلاش کرتے ہیں جہاں سے سوائے مایوسی کے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔انبیاء کا خوف و حزن بعض جگہ جو انبیاء کی نسبت خوف اور حزن کا لفظ استعمال ہوا ہے اس جگہ خوف اور حزن ان کی اپنی ذات کے متعلق نہیں ہوتا بلکہ دوسروں کی نسبت ہوتا ہے اور دوسروں کی نسبت خوف اور حزن کا پیدا ہونا عذاب نہیں کہلاسکتا۔بلکہ یہ تو ایک اعلیٰ درجہ کی نیکی ہے کہ انسان دوسروں کی مصیبت کو اپنی مصیبت سمجھے۔اور ان کے درد میں شریک ہو۔انہی معنوں کے رو سے حزن کا لفظ حضرت یعقوب کے لئے استعمال ہوا ہے وہ حزن اپنی ذات کے متعلق نہ تھا۔بلکہ اپنی اولاد کی نسبت تھا۔جو گنہ گار ہوکر خدا سے دور جارہی تھی۔اور یہ حزن عین رحمت تھا۔اسی طرح حضرت زکریا کی نسبت آتا ہے اِنِّيْ خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَّرَآءِيْ (مریم :۶)۔اپنے بعد میں اپنے رشتہ داروں سے ڈرتا ہوں کہ میرے کام کو خراب نہ کردیں۔یہ خوف بھی ثواب کا موجب اور نیکی کا اعلیٰ نمونہ ہے کیونکہ یہ خوف اپنی ذات کی نسبت نہیں بلکہ اس امر کے متعلق ہے کہ لوگ گمراہ نہ ہوجائیں۔الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا يَتَّقُوْنَؕ۰۰۶۴ (یعنی وہ لوگ) جو ایمان لائے اور تقویٰ کو( ہمیشہ) لازم حال رکھتے تھے۔تفسیر۔اولیاء اللہ کی صفت حدیث میں اس آیت میں اولیاء کی صفت بتائی ہے کہ وہ ایمان میں کامل اور تقویٰ کا اعلیٰ نمونہ ہوتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ولایت کی تشریح فرمائی ہے اور وہ گویا اس آیت کی تفسیر ہے۔پس میں اسے بھی اس جگہ بیان کر دیتا ہوں آپ فرماتے ہیں اِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ یُؤْتٰی بِاَھْلِ وِلَایَۃِ اللہِ فَیَقُوْمُوْنَ بَیْنَ یَدَیِ اللہِ عَزَّوَجَلَّ ثَلَاثَۃَ اَصْنَافٍ۔فَیُؤْتٰی بِرَجُلٍ مِنَ الصِّنْفِ الْاَوَّلِ فَیَقُوْلُ عَبْدِیْ لِمَاذَا عَمِلْتَ فَیَقُوْلُ یَارَبِّ خَلَقْتَ الْجَنَّۃَ وَاَشْجَارَھَا وَاَثْمَارَھَا وَاَنْھَارَھَا وَحُوْرَھَا وَنَعِیْمَھَا وَمَااَعْدَدْتَ لِاَھْلِ طَاعَتِکَ فِیْہَا فَاسْہَرْتُ لَیْلِیْ وَأَظْمَأْتُ نَہَارِیْ شَوْقًا اِلَیْہَا قَالَ فَیَقُوْلُ اللہُ تَعَالٰی عَبْدِیْ اِنَّمَا عَمِلْتُ لِلْجَنَّۃِ ھٰذِہِ الْجَنَّۃُ فَاَدْخُلْھَا وَمِنْ فَضْلِی عَلَیْکَ اِنِّی قَدْاَعْتَقْتُکَ مِنَ النَّارِ وَمِنْ فَضْلِیْ عَلَیْکَ اَنْ أُدْخِلَکَ جَنَّتِیْ فَیَدْخُلُ ھُوَوَمَنْ مَعَہُ الْجَنَّۃِ