تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 139

ہے مگر مراد سب مسلمان ہیں۔اور بتایا گیا ہے کہ اس وقت دو قوموں میں مقابلہ شروع ہے۔ایک طرف ہماری قائم کردہ جماعت ہے اور دوسری طرف کفار کی جماعت ہے ہم نے اپنی جماعت کا پاس اس لئے نہیں کرنا کہ وہ ہماری ہے۔بلکہ نیت کو دیکھنا ہے۔پس اے قرآن پڑھنے والو اگر تم نے نیک نیتی اور حکمت سے قرآن ان کو نہ سنایا اور اس وجہ سے انہوں نے انکار کیا تو ہم تمہیں پکڑیں گے کیونکہ اس انکار کے ذمہ دار تم ہو گے۔لیکن اگر تم نےاپنی طرف سے اشاعت قرآن کریم کے فرض کو باحسن وجوہ ادا کیا تو اے انکار کرنے والو! ہم تمہیں پکڑیں گے۔گویا اسی طرف اشارہ فرمایا کہ ہم صرف عمل کو ہی نہیں دیکھتے بلکہ اسباب اور موجبات کو بھی دیکھتے ہیں۔اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَۚۖ۰۰۶۳ سنو جو( لوگ) اللہ( تعالیٰ) سے سچی محبت رکھنے والے ہیں۔ان پر نہ کوئی خوف (مستولی ہوتا )ہے اور نہ وہ غمگین رہتے ہیں۔حلّ لُغَات۔اَلَٓا یہ تنبیہ کے لئے اور ہوشیار کرنے کے لئے آتا ہے۔گویا کہ فرماتا ہے کہ اچھی طرح سن رکھو۔اس جگہ اس کے معنی خبردار کرنا اردو محاورہ کے لحاظ سے صحیح نہیں۔کیونکہ خبردار ڈرانے کے لئے آتا ہے۔مگر یہاں تو ایک مبارک مضمون ہے۔کیونکہ اولیاء کو خوشخبری دی گئی ہے۔اس لئے خبردار رکھنے کا موقع نہیں۔اس لئے اس کا ترجمہ ’’سنو‘‘ کیا گیا ہے۔تفسیر۔لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ کے معنی لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ کے معنوں میں لوگوں نے غلطی کی ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان پر کوئی خوف نہیں آتا۔حالانکہ عربی زبان میں خِفْتُ عَلَیْکَ کے معنی ہوتے ہیں کہ میں ڈرا کہ تجھ کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔اور خِفْتُ عَلٰی نَفْسِیْ کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ میں ڈرا کہ مجھے کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔اس جگہ اس محاورہ کے مطابق یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے۔صرف فرق یہ ہے کہ نسبت کو حذف کر دیا گیا ہے۔اور مراد یہ ہے کہ لَایَخَافُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِہِمْ یعنی اپنے نفس کے متعلق یقین رکھتے ہیں کہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔نہ یہ کہ کوئی خطرہ انہیں پیش نہیں آئے گا۔وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ کے معنی وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ سے یہ بتایا کہ ان کو ماضی کا بھی صدمہ نہ ہوگا۔اس فقرہ میں اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اولیاء اللہ کو اللہ تعالیٰ ان غلطیوں کے صدمات سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔جو اعلیٰ مقامات کے حصول سے پہلے وہ کرچکے ہوں کیا ہی محفوظ مقام ہے دنیا کی کوئی طاقت آئندہ اور ماضی کا ذمہ نہیں لے سکتی۔صرف