تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 138

کوئی کام نہیں کرتے جس پر ہم نگران نہ ہوں۔صغیر بھی غائب رہنے کا موجب ہوتا ہے اور کبیر بھی اَصْغَرَ کالفظ تو اس لئے لایا گیا ہے کہ چھوٹی چیز نظر سے غائب ہوسکتی ہے۔مگر اکبر کا لفظ کیوں لایا گیا ہے؟ سرسری نگہ سے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ تابع مہمل ہے۔لیکن حقیقتاً ایسا نہیں۔کیونکہ کبھی بڑی چیز بھی ادراک سے غائب ہو جاتی ہے۔مثلاً آنکھ کے سامنے ایک بڑا پہاڑ آجائے تو اس کا صرف تھوڑا سا حصہ نظر آسکتا ہے۔معلوم ہوا کہ صغیر ہونے کی وجہ سے بھی چیز غائب ہوسکتی ہے اور کبیر ہونے کی وجہ سے بھی۔اس لئے فرمایا کہ اس کی نظر اس قدر وسیع ہے کہ کوئی بڑی سے بڑی چیز بھی اس سے غائب نہیں ہوسکتی۔اور اتنا لطیف ہے کہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اس سے اوجھل نہیں ہوسکتی۔علمی نظر سے اگر دیکھا جائے تو آنکھ اور کان کی مثال سے یہ امر خوب روشن ہو جاتا ہے علم النفس کے ماہروں کی تحقیق سے ثابت ہے کہ دیکھنا اور سنناکچھ حرکات متوالیہ متواترہ پر منحصر ہے۔جنہیں وائبریشنز کہتے ہیں۔آنکھ اور کان دونوں کے لئے ایک حد مقرر ہے۔ایک حد سے کم حرکات کو آنکھ نہیں دیکھ سکتی اور نہ ایک حد سے زیادہ کو۔یہی حال کان کا ہے جو حرکت کہ ایک سیکنڈ میں تیس سے کم ہو کان اسے نہیں سن سکتے لیکن جو حرکت کہ سیکنڈ میں چالیس سے بڑھ جائے اسے بھی کان نہیں سن سکتے۔پس علمی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ بعض چیزیں بڑی ہوکر بھی آنکھ یا کان کے ادراک سے نکل جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمارے ساتھ یہ معاملہ نہیں۔ہر چیز خواہ بڑی ہو یا چھوٹی ہمارے علم میں رہتی ہے۔نجات کے لئے صرف ایمان کافی نہیں بلکہ نیت اور طریق عمل کی درستی بھی ضروری ہے اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ گو تم دونوں فریق میں سے ایک خدا تعالیٰ کے دین پر ایمان لانے والا اور ایک مومن ہے لیکن دونوں فریق کو یاد رکھنا چاہیے کہ صرف صداقت کو مان لینا کافی نہیں ہوتا۔بلکہ جزائے اعمال کے وقت نیت اور طریق عمل کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔پس ہر وقت انسان کو اپنے نفس کا معائنہ کرنا چاہیے۔کسی عظیم الشان کام کا کرنا یا خدا تعالیٰ کے کلام کو پڑھ کر سنانا اپنی ذات میں کافی نہیں بلکہ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کس نیت سے اس کام کو کیا جاتا یا کلام کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے اور کس طریق پر کیا جاتا یا پڑھا جاتا ہے۔ہوسکتا ہے کہ نیت خراب ہو یا ہوسکتا ہے کہ تبلیغ میں کوئی ایسا رنگ اختیار کیا جائے کہ لوگ بجائے قریب آنے کے دور ہو جائیں۔اور انہیں ضد پیدا ہوجائے پس تم یہ خیال نہ کرو کہ ہم دین کا کام کرتے ہیں کیونکہ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ تم اس کام کو کس طرح کرتے ہو۔کیا لوگوں کو دین سے اور بھی دور تو نہیں کررہے؟ مَا تَکُوْنُ کے خطاب میں مومنین بھی داخل ہیں یا د رکھنا چاہیے کہ گو اس جگہ الفاظ میں ایک شخص مخاطب