تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 137
واپس ہو کر چلے گئے۔تیزی کے ساتھ منتشر ہو گئے۔اَفَاضَ الْقَوْمُ فِی الْحَدِیْثِ۔اِنْدَفَعُوْا وَاَسْرَعُوْا۔باتوں میں لگ گئے۔اَفَاضَ فُلَانٌ اَلْاِنَاءَ۔مَلَأَہٗ حَتّٰی فَاضَ۔اس قدر لبریز کر دیا کہ بہہ پڑا۔اَفَاضَ الْقِدَاحَ وَبِالْقِدَاحِ وَعَلَی الْقِدَاحَ۔ضَرَبَ بِہَا جوا کھیلا۔اَفَاضَ بِالشَّیْءِ دَفَعَ بِہٖ وَرَمٰی پھینکا۔اَفَاضَ الْقَوْمُ عَلَی الرَّجُلِ۔غَلَبُوْہُ۔دبا لیا۔مَااَفَاضَ بِکَلِمَۃٍ مَااَفْصَحَ بِہَا۔خوب وضاحت سے بولا۔(اقرب) یہ لفظ عام طور پر باتوں کے متعلق آتا ہے مگر یہاں پر عمل اور قول دونوں کے متعلق آیا ہے کیونکہ یہ عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ جب دو چیزوں کے لئے جدا جدا فعل ہوں تو کبھی قاعدہ تغلیب کے ماتحت ایک کو دوسرے کے تابع بنا کر دونوں کے لئے ایک ہی فعل لایا جاتا ہے۔جیسے چار پائے کو چارہ دینے کے لئے عَلَفَ آتا ہے۔اور پانی دینے کے لئے اَسْقَا آتا ہے مگر بجائے عَلَفْتُ الدَّآبَّۃُ تِبْنًا وَ اَسْقَیْتُہٗ مَآءً کے عَلَفْتُ الدَّآبَّۃ تِبْنًا وَمَآءً بول دیتے ہیں۔پس اسی کے مطابق یہاں قول و عمل ہر دو کے لئے تُفِیْضُوْنَ ہی استعمال کیا گیا ہے۔عَزْبٌ عَزَبَ الشَّیْءَ عَنْہُ یَعْزُبُ وَیَعْزِبُ عُزُوْبًا۔بَعُدَ وَغَابَ وَخَفِیَ۔دور ہوا۔غائب ہوا۔چھپا۔یُقَالُ عَزَبَ عَنْہُ حِلْمُہُ۔اَیْ غَابَ۔اس کا علم جاتا رہا۔غائب ہو گیا۔عَزَبَ الرَّجُلُ۔ذَھَبَ چلا گیا۔(اقرب) مِثْقَالٌ اَلْمِثْقَالُ مَا یُوْزَنُ بِہٖ تولنے کا بٹہ وغیرہ۔مِثْقَالُ الشَّیْءِ۔مِیْزَانُہٗ مِنْ مِّثْلِہٖ برابر۔ذَرَّۃٌ اَلذَّرَۃٌ وَاحِدَۃٌ الذَّرِّ۔صِغَارُ النَّمْلِ چھوٹی چیونٹیاں۔اَلْھَبَاءُ الْمُنْبَثُّ فِی الْھَوَآءِ ہوا میں ملا ہوا باریک غبار۔تفسیر۔مَا تَتْلُوْا مِنْهُ کی ضمیر کا مرجع مَا تَتْلُوْا مِنْهُ میں ضمیر مجرور کا مرجع قرآن کریم بھی ہوسکتا ہے اور اس صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تو نہیں پڑھتا قرآن کا کوئی حصہ۔اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قد جاء تکم میںجس چیز کی آمد کی خبر دی گئی ہے اس کی طرف معناً ضمیر پھرتی ہو اور مراد یہ ہو کہ جو کلام ان لوگوں کی طرف قرآن کریم کی شکل میں آیا ہے اس میں سے تو جو کچھ پڑھتا ہے اور ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف بھی جاسکتی ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو پڑھتا ہے۔ایک طرف آنحضرت ؐ سے خطاب اور دوسری طرف کفار سے یہ آیت بہت عجیب ہے۔اس سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے خداوند تعالیٰ عرش عظیم سے خطاب فرمارہا ہے۔ایک طرف تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کی جماعت ہے اور دوسری طرف مخالفین بیٹھے ہیں۔پہلے حصہ آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کو مخاطب کرتا ہے پھر مخالفین کی طرف توجہ کرتا ہے اور فرماتا ہے وَلَاتَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا۔تم