تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 136
کرنااورپھر امتحان کے نتائج سے ڈر کر اس کا سرے سے ہی انکار کر دینا تو اور بھی غافل اور سست کر دے گا اور تباہی سے بچائے گا نہیں بلکہ تباہی کی طرف دھکیل دے گا۔وَ مَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا اور تو نہ( کبھی) کسی کام میں (مشغول )ہوتاہے اورنہ تو اس( کتاب) میں سے کوئی حصہ قرآن پڑھتا ہے اور نہ تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ (ہی) تم( لوگ) کوئی (اور) کام کرتے ہو۔مگر (اس حال میں کہ) جب تم اس میں تیزی سے مشغول ہوتے ہو تو تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ١ؕ وَ مَا يَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ہم تمہیں دیکھ رہےہوتے ہیں۔اور زمین یا آسمان میں کوئی( ایک) ذرہ بھر چیز(بھی) تیرے رب( کی نظر) سے ذَرَّةٍ فِي الْاَرْضِ وَ لَا فِي السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ پوشیدہ نہیں ہوتی۔اور نہ( ہی) کوئی (ذرہ سے) چھوٹی چیز ہے اورنہ (ہی اس سے) کوئی بڑی چیز ہے جو (ہر ایک اَكْبَرَ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ۰۰۶۲ حقیقت کو)روشن کر دینے والی ایک کتاب میں( مذکور اور موجود) نہ ہو۔حلّ لُغَات۔شَأْنٌ۔اَلشَّأْنُ۔الْخَطْبُ اَیْ مَاعَظُمَ مِنَ الْاَحْوَالِ وَالْاُمُوْرِ۔اہم کام یا اہم بات۔اہمیت رکھنے والی حالت۔اَلْـحَالُ۔حالت۔صورت، صورتِ حال۔اَلْاَمْرُ۔معاملہ۔بات۔وَمِنْ شَأْنِہٖ کَذَا۔اَیْ مِنْ طَبْعِہٖ وَخَلْقِہٖ کذا طبعی بات۔عادت۔معمول (اقرب)۔اس آیت میں پہلے معنی زیادہ چسپاں ہوتے ہیں۔اور اس میں اہم کاموں سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرائض منصبی اور دینی مشاغل ہیں۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اہم کام یہی تھا۔اَفَاضَ تُفِیْضُوْنَکی ماضی اَفَاضَ ہے۔اَفَاضَ الْمَآءَ عَلٰی جَسَدِہٖ۔اَفْرَغَہٗ انڈیلا ڈالا۔اَفَاضَ دَمْعَہٗ سَکَبَہٗ بہایا۔اَفَاضَ النَّاسُ مِنْ عَرَفَاتٍ۔اِنْدَفَعُوْا وَرَجَعُوْا۔تَفَرَّقُوْا وَاَسْرَعُوْا مِنْہَا اِلَی مَکَانٍ اٰخَرَ۔