تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 135

وَ مَا ظَنُّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ يَوْمَ اور جو لوگ اللہ( تعالیٰ) پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ان کا قیامت کے دن کے متعلق کیا خیال ہے۔الْقِيٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اللہ( تعالیٰ) لوگوں پر یقیناً (بہت ہی بڑے) انعام کرنے والا ہے اَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُوْنَؒ۰۰۶۱ مگر ان میں سے اکثر (لوگ) شکر نہیں کرتے۔حلّ لُغَات۔یَوْمَ الْقِیَامَۃِ میں یوم ظرف کی وجہ سے منصوب ہے۔اور فِیْ اس جگہ محذوف ہے۔یعنی قیامت کے دن (قیامت کے متعلق) ان کا کیا گمان ہوگا۔تفسیر۔اس فضل کا انکار ظاہر کرتا ہے کہ انہیں قیامت پر بھی ایمان نہیں یعنی اگر خدا تعالیٰ پر ایمان ہو تو انسان اس پر جھوٹ کب بول سکتا ہے۔پس ان امور کو جزوی قرار دے کر حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔یہ علامتیں ہیں اس امر کی کہ قیامت پر ایمان نہیں رہا۔اور اللہ تعالیٰ کی صفات نظر سے اوجھل ہو گئی ہیں۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے فضل کے سامان پیدا کرے اور یہ لوگ ان کی ناقدری کریں۔اور عقل کے خلاف ڈھکوسلوں کو خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی تعلیم پر ترجیح دیں؟ قیامت کا دن عذاب دینے کے لئے نہیں بلکہ انعامات اور ترقی کے لئے ہے ایک معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ اس جگہ ان کے مذہب کی خرابی اور خلاف عقل ہونے کی دوسری دلیل دی ہے۔یعنی قیامت کا انکار۔اور بتایا ہے کہ قیامت کا انکار محض اس وجہ سے ہوتا ہے کہ گناہ گار فطرت اس دن کا خیال کرکے کانپتی ہے۔جب اسے سزا ملے گی۔اس لئے وہ اس کا انکار ہی کر دیتی ہے۔حالانکہ انکار سے حقائق نہیں بدل جاتے۔لیکن فرماتا ہے کہ یہ امر بھی عقل کے خلاف ہے کیونکہ قیامت کا وجود تو اللہ تعالیٰ نے ترقیات کے لئے بنایا ہے نہ دکھ دینے کے لئے۔امتحان مدارس میں اس لئے رکھا جاتا ہے کہ بچے اس کی وجہ سے محنت سے کام کریں۔بےشک بعض فیل ہو جاتے ہیں مگر امتحان کی غرض فیل کرنا نہیں بلکہ پاس کرنا ہے۔پس جو شخص امتحان کو برا کہتا ہے وہ نادان ہے۔اسے کس نے کہا ہے کہ وہ فیل ہو جائے وہ کوشش کرے کہ پاس ہو۔آپ ہی فیل ہونے کے سامان پیدا