تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 127
پہلے واقع ہوتا ہے۔(اقرب) تفسیر۔جب شریر آدمی بالکل بند ہو جاتا ہے تو ہنسی کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔فرمایا کہ جب یہ لوگ ان دلائل سے عاجز آجائیں گے تو ہنسی کرنے لگیں گے اور بڑی سنجیدہ شکلیں بنا کر پوچھیں گے کہ کیا یہ باتیں سچی ہیں تو ان کی ہنسی کی پرواہ نہ کیجیؤ۔اور کہہ دیجیؤ کہ ہاں! میں اپنے رب کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ باتیں سچی ہیں۔اس جگہ سوال سے مراد قومی عذاب کے متعلق سوال ہے۔جیسا کہ دوسری جگہ ہے عَمَّ يَتَسَآءَلُوْنَ۠۔عَنِ النَّبَاِ الْعَظِيْمِ۔(النباء:۲) صفت رب کی قسم کیوں کھائی گئی ہے لفظ رَبِّيْۤ میں رب کی صفت کی قسم کھاکر خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کے سامنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وقت کی حالت کو بطور دلیل پیش کیا ہے۔اور وہ اس طرح پر کہ کفار کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ دیکھو خدا تعالیٰ نے اسے رسول بنا کر کس طرح آہستہ آہستہ ترقی دی ہے۔اور بتدریج وہ اسے بڑھا رہا ہے۔اور تمہارے زور کو کم کررہا ہے پس اس سے تم بآسانی سمجھ سکتے ہو کہ ایک وقت آئے گا کہ یہ جیت جائے گا اور تم ہار جاؤ گے۔اس لئے تمہارا اس پیشگوئی پر تمسخر اڑانا تمہاری کم عقلی پر دلیل ہے ورنہ اگر ذرہ سی بھی عقل سے کام لو تو تم کو اس کے صحیح ہونے میں ذرہ بھی شبہ نہیں ہوسکتا۔وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِي الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ اور اگر ایسا ہوتا کہ جو کچھ زمین میں( پایا جاتا) ہے وہ سب کا سب ہر ایسے شخص کا ہوتا جس نے ظلم کیا ہے۔تو وہ ضرور اس بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِيَ کے ذریعہ سے اپنے آپ کو( عذاب سے) چھوڑاتا۔اور جب وہ (اس)عذاب کو دیکھیں گے تو وہ (اپنی )شرمندگی کو بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ۰۰۵۵ چھپائیں گے۔اور ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کر دیا جائے گا۔اور ان پر( کوئی)ظلم نہیں کیا جائے گا۔حلّ لُغَات۔اسرَّ۔اَسَرُّوْا النَّدَامَۃَ کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ندامت کو چھپائیں گے۔یا یہ کہ ان کے د لوں میں ندامت پیدا ہو جائے گی۔اقرب میں ہے اَسَرَّالسِّرُّ کَتَمَہٗ۔اسے چھپایا۔اَظْھَرَہٗ اسے ظاہر کیا۔