تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 128

ضِدٌّ یہ لفظ دو متضاد معنی دیتا ہے۔تفسیر۔انسانی فطرت اس قسم کی ہے کہ سزا کا اس پر دو قسم کا اثر ہوتا ہے۔بعض شخص سزا پر اکڑ جاتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں۔اور بعض لوگ بالکل گر جاتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہماری سزا ایسی نہیں کہ اس کا اثر مشکوک ہو۔بلکہ اس کا اثر یقینی ہوتا ہے اور ہر اک شخص خواہ کوئی ہو ہمارے عذاب کی برداشت سے عاجز آجاتا ہے۔اور کسی میں بھی تکبر باقی نہیں رہتا۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان جو سزائیں دیتے ہیں ان کا اثر صرف جسم پر پڑتا ہے اور دل کو وہ مرعوب کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔صرف بزدل آدمی اپنی کمزور فطرت کے ماتحت مرعوب ہوتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ چونکہ دلوں پر بھی قابض ہے اس کی سزا نہ صرف جسم پر نازل ہوتی ہے بلکہ دلوں پر بھی اور اس طرح دلوں کو پاک کیا جاتا ہے۔پس فرمایا کہ ہماری سزا جب نازل ہوتی ہے تو دل بھی مرعوب ہو جاتے ہیں۔اور جس پر عذاب نازل ہو وہ ہر قسم کی قربانی کرکے اپنے آپ کو بچانے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ظاہری سبب بھی خدا تعالیٰ کی سزا سے مرعوب ہونے کا موجود ہوتا ہے جو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی سزا ہمیشہ مناسب موقع پر نازل ہوتی ہے۔اور اس وجہ سے اس کی صحت کے دل قائل ہوتے ہیں۔انسانی سزا غلط بھی ہوتی اور اور ایسے موقع پر ہی دل مقابلہ کے لئے تیار ہو تا ہے۔جب وہ سزا کو ظالمانہ سمجھے۔پس خدا تعالیٰ کے عادل ہونے کے سبب سے دل اس کے انصاف کو محسوس کرتے ہیں اور اپنے کیے پر نادم ہوتے ہیں۔اور جب ندامت پیدا ہو تو انسان اپنے فعل کے ازالہ کی کوشش کرتا ہے۔یہ بھی مطلب اس آیت کا نکلتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا عذاب انہی پر آتا ہے جو اس کی تعلیم کا مقابلہ کرتے ہیں اور جو لوگ سچائی کا مقابلہ کریں ان کا کوئی ایسا آئیڈیل یا مقصد عالی نہیں ہوتا۔جس کی خاطر وہ قربانی کررہے ہوں۔بلکہ ادنیٰ خواہشات ہی ان کی مخالفت کی محرک ہوتی ہیں۔اور یہ قاعدہ ہے کہ جو لوگ کوئی مقصد عالی نہیں رکھتے وہ بڑی قربانی بھی نہیں کرسکتے اور کمینگی اور دنایت ان کے دلوں میں پیدا ہو جاتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن پر ہمارا عذاب آتا ہے وہ چونکہ ادنیٰ خواہشات کے شکار ہوتے ہیں بلند حوصلگی نہیں دکھاسکتے اور تکلیف کے وقت ہر اک چیز کو قربان کرکے اپنے آپ کو بچانا چاہتے ہیں یعنی وہ چیزیں جنہیں انسان اپنی جان دے کر بھی بچاتا ہے یعنی قومی عزت وغیرہ وہ انہیں بھی قربان کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں اور یہ ثبوت ہوتا ہے ان کی غلطی پر ہونے کا۔اگر وہ حق پر ہوتے تو کبھی ایسا کمینہ فعل نہ کرتے۔