تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 126

ثُمَّ قِيْلَ لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ پھر جن لوگوں نے ظلم کیا ہو گا انہیں کہا جائے گا (کہ اب) تم قائم رہنے والا عذاب پاؤ۔تمہیں بدلہ میں اس کے سوا جو تم تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۰۰۵۳ (خود) کماتے تھے کچھ نہیں دیا جاتا۔حلّ لُغَات۔اَلْـخُلْدٌ۔خُلْدٌ کے معنی عربی زبان میں یہ ہوتے ہیں کہ اَلْبَقَاءُ باقی رہنا۔اَلدَّوَامُ چلتے ہی چلے جانا۔(اقرب) خَلَدَ یَخْلُدُ خُلوْدًا دَامَ و بَقِیَ۔خُلْد کا فعل خَلَدَ ہے جس کے معنی ہیں رہا۔دائم رہا۔باقی رہا۔اَلرَّجُلُ خَلْدًاوَ خُلُوْدً اأَبْطَأَ عَنْہُ الْمَشِیْبُ وَقَدْ اَسَنَّ۔جب اس کا فاعل انسان ہو اور اس کی مصدر خَلْد یا خلود ہو تو ا سکے یہ معنی ہوتے ہیں کہ اس آدمی کی عمر زیادہ ہو گئی اور بڑھاپا نہ آیا۔وَبِالْمَکَانِ وَاِلَی الْمَکَانِ اَقَامَ بِہٖ اور جب اس کے بعد ب یا اِلٰی آئے تو اس کے معنی ہوتے ہیں فلاں مکان میں ٹھہرا۔خَلَدَ اِلَی الْاَرْضِ لَصِقَ بِہَا وَاطْمَئَنَّ اِلَیْہَا اور اس کے بعد ایک معنی یہ بھی ہیں کہ وہ زمین سے چمٹ گیا اور اس پر مطمئن ہو گیا۔(اقرب) تفسیر۔عَذَابَ الْخُلْدِ کے یہ معنی ہوئے کہ وہ عذاب آئے گا جو ٹک جائے گا۔اور تم سے چمٹ جائے گا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ کبھی ہٹے گا نہیں اور وہ غیر مقطوع ہو گا۔بلکہ عذاب کے تعلق کی مضبوطی کو ظاہر کیا گیا ہے۔یعنی جب عذاب آئے گا تو ہٹایا نہ جائے گا جس طرح صاحب مکان جب آجائے تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ جاؤ یہاں گنجائش نہیں۔اسی طرح وہ عذاب ہوگا کہ اسے رد نہ کیا جاسکے گا۔وَ يَسْتَنْۢبِـُٔوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِيْ وَ رَبِّيْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ اور وہ تجھ سے دریافت کرتے ہیں( کہ) کیا وہ( عذاب سچ مچ) واقع ہو گا۔تو (انہیں )کہہ (کہ) ہاں۔مجھے اپنے مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَؒ۰۰۵۴ رب کی قسم ہے کہ وہ یقیناً واقع ہونے والا ہے اور تم (ایسا کرنے سے خدا تعالیٰ کو) عاجز نہیں کر سکتے۔حلّ لُغَات۔اِی اِیْحرف جواب۔بمعنی نَعَمْ۔ہاں وَلَا تَقَعُ اِلَّا قَبْلَ الْقَسْمِ۔یہ ہمیشہ قسم سے