تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 108

طرف سے بالکل ثابت نہیں ہے بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ یہود کی کتب میں جو باتیں ہیں ان کی نہ تصدیق کرو نہ تکذیب کرو۔اگر ان کتب کو غیرمحرف سمجھا جاتا تو ان کی تصدیق سے کیوں روکا جاتا؟ کسی کتاب کا حوالہ دینا اس ساری کتاب کی درستی کو تسلیم کرنے کا مستلزم نہیں باقی رہا یہ کہ قرآن کریم نے ان کتب کا حوالہ دیا ہے سو یہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ وہ کتب محرف نہیں ہیں۔سب دنیا تاریخی کتب کا حوالہ دیتی ہے اور کوئی عقلمند کسی تاریخی کتاب کو شروع سے آخر تک صحیح نہیں سمجھتا۔حوالہ سے مراد صرف اس خاص واقعہ کی تصدیق ہوتی ہے نہ کہ سب کتاب کی۔پہلی کتب قرآن کریم کی تفصیل کی محتاج ہیں تیسری دلیل یہ دی ہے کہ قرآن کریم پہلی کتب کی تفصیل کرتا ہے۔یہ بھی ایک زبردست ثبوت قرآن کریم کی صداقت کا ہے۔بغیر قرآن کریم کے مضامین سے مدد لینے کے کوئی پہلی کتاب حل نہیں ہوسکتی۔توراۃ، انجیل، وید ،ژند، اوستا سب کتب میں توحید، صفات باری کے ظہور، وحی، نبوت، بعدالموت، امور اخلاق، امور روحانیہ وغیرہا کے متعلق بحثیں ہیں۔لیکن کوئی کتاب بھی ان امور کو واضح کرکے بیان نہیں کرتی بلکہ قرآن کریم کی مدد سے ان کو حل کرنا پڑتا ہے۔مسئلہ توحید کی قرآن کریم میں تفصیل توحید سب سے بڑا اہم مسئلہ ہے۔اسی کو لے لو۔ان سب کتب میں اس کا ذکر ہوگا مگر بالاجمال۔چنانچہ قرآن کریم سے پہلے کی جو کتب توحید کے متعلق ان کتب کے پیرووں نے لکھی ہیں یا جو مضامین لکھے ہیں انہیں پڑھ کر دیکھ لو وہ توحید کے متعلق بہت ہی ناقص معلومات دیتی ہیں مگر قرآن کریم کے بعد ان کے پیرووں کی کتب کا رنگ ہی اور ہو گیا ہے۔جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قرآنی مطالب کے پھیلنے سے ان لوگوں پر اصل حقیقت کھلی اور ان کی مدد سے انہوں نے اپنے مذہب کے عقائد کی تشریح کی۔مسئلہ نبوت کی تفصیل نبوت کا مسئلہ ایسا اہم مسئلہ ہے لیکن توراۃ اور انجیل اور دوسری کتب اس کے متعلق اس حد تک خاموش ہیں کہ ان کے پیرو اب تک نہیں بتا سکتے کہ نبی سے مراد ان کی کتب میں کن لوگوں سے ہے؟ مگر قرآن کریم نے اس مضمون کو بھی خوب واضح کیا ہے۔یہی دوسرے اہم مسائل کا حال ہے۔پس اس آیۃ میں بتایا گیا ہے کہ پہلی کتب کے مطالب کی تفصیل اس کتاب سے ملتی ہے۔اگر تم اس کتاب کا انکار کرو گے تو ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ وہ باتیں اپنی کتب میں بیان نہ کرسکا جو اس شخص نے ایک چھوٹی سی کتاب میں بیان کردیں۔پس یا اسے سچا ماننا پڑے گا یا پہلی کتب کو بھی جھوٹا ماننا پڑے گا۔