تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 109

امور غیبیہ کا پورے طور پر بیان چوتھی دلیل یہ دی ہے کہ اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے۔یعنی یہ کتاب اپنے دلائل خود بیان کرتی ہے۔کسی کی مدد کی محتاج نہیں۔اس میں مضامین ایسے رنگ میں بیان ہوئے ہیں کہ جو شخص ان پر پورے طور پر تدبر کرے اسے ساتھ کے ساتھ دلائل ملتے جاتے ہیں اور شک اس کتاب کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتا کیونکہ یہ خود دلائل بیان کردیتی ہے۔بلکہ شک اگر پیدا ہوتا ہے تو انسان کی اپنی غفلت اور سستی کی وجہ سےاور یہ امر بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کتاب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے کیونکہ یہ بات کسی انسان کی طاقت میں نہیں ہے کہ وہ امور غیبیہ کو پورے طور پر ثابت کرسکے کیونکہ ان میں سے کئی خالی عقلی دلیل سے ثابت نہیں ہوسکتے۔بلکہ اس کے ساتھ مشاہدہ کی دلیل کے بھی محتاج ہوتے ہیں۔اور امور غیبیہ کے لئے مشاہدہ کے سامان پیدا کر دینا انسان کی طاقت سے بالا ہے اور صرف خدا تعالیٰ کے لئے ممکن ہے کہ امور غیبیہ کے لئے ایسے ثبوت بہم پہنچا دے جو مشاہدہ کا رنگ رکھتے ہوں۔اپنے متبعین پر الہام کا دروازہ کھولنا مثلاً الہام ایک امر غیبی ہے ایک انسان عقلی دلیلیں تو دے سکتا ہے لیکن الہام کا دروازہ کسی کے لئے نہیں کھول سکتا۔نہ اس کا وعدہ کرسکتا ہے۔مگر خدائی کلام یہ کرسکتاہے۔وہ یہ دعویٰ بھی کرسکتا ہے کہ میرے ساتھ تعلق رکھنے والوں پر الہام کا دروازہ کھولا جائے گا۔اور اس کے اس دعویٰ کی تصدیق خدا تعالیٰ کے فعل سے بھی ہوسکتی ہے۔پس جو کلام کلام الٰہی کے نازل ہونے کے ثبوت میں یہ دلیل پیش کرے کہ یہ عجیب بات نہیں۔اب بھی کلام الٰہی نازل ہوتا ہے اور ہوتا رہے گا اور سینکڑوں لوگ اس کے ذریعہ سے کلام الٰہی کو سنیں گے۔اس کے خدائی کلام ہونے میں کوئی شبہ ہی نہیں ہوسکتا۔کیونکہ بندہ کی طاقت میں نہیں ہے کہ ایسے ثبوت بہم پہنچا سکے اور شک کا اس طرح قلع قمع کرسکے۔اس کتاب کا تمام عالمین کے لئے ہونا اس کے منجانب اللہ ہونے پر گواہ ہے پانچویں دلیل یہ دی ہے کہ یہ کلام رب العٰلمین خدا کی طرف سے ہے۔یعنی اس کی تعلیم میں خدا تعالیٰ کی طرف سے رب العٰلمین کی صفت ظاہر ہوئی ہے کسی قوم یا کسی زمانہ سے مخصوص نہیں جس طرح کہ پہلی کتب ہوتی تھیں۔بلکہ سب اقوام اور سب زمانوں کے لئے ہے اور ہر زمانہ کی ضرورتوں اور اس کے مفاسد کا اس میں خیال رکھا گیا ہے اور یہ امر بھی کسی انسان کی طاقت میں نہیں کہ وہ سب اقوام اور سب زمانوں کا خیال رکھ سکے۔انسان تو اپنے گردوپیش کے حالات سے متاثر ہوتا ہے اور اپنی ان ضرورتوں کا خیال رکھتا ہے جو اس کے سامنے ہوں۔اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ایسی تعلیم آسکتی ہے جو ہر زمانہ اور ہر قوم کے لئے یکساں مفید ہو۔اور زمانہ کے تغیرات اس پر کوئی اثر نہ ڈال سکیں۔اور انسانی فطرت کے تمام