تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 107

وہ شخص جھوٹا ہو یا وہ بات غلط ہو۔صرف ’’اس‘‘ کے لفظ سے یہ سب مضمون پیدا کرلیا جاتا ہے۔غرضهٰذَا کا لفظ اس آیت کے مطلب کو بالکل واضح کر دیتا ہے۔مگر بعض مسیحی مشنری بغیر عربی زبان کی باریکیوں سے واقف ہونے کے قلم اٹھا لیتے ہیں اور خود بھی غلطیوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان ناواقف لوگوں کو بھی مبتلا کرتے ہیں جو ان پر اعتبار کرتے ہیں۔کاش کہ وہ بعض غیرمتعصب مستشرقین سے ہی مشورہ کرلیا کرتے۔کتب سابقہ کی پیشگوئیوں کی شہادت دوسری دلیل قرآن کریم کے کامل روحانی ہدایت نامہ ہونے کی یہ دی ہے کہ جس طرح اس کی اپنی پیشگوئیاں اس کے مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ہونے کے خیال کو غلط ثابت کرتی ہیں اسی طرح پہلے انبیاء کی پیشگوئیاں بھی اس خیال کو غلط ثابت کرتی ہیں کیونکہ پہلے انبیاء کا کلام بھی اس کی تصدیق کرتا ہے اور اس میں بھی اس کے متعلق بہت سی پیشگوئیاں ہیں۔اگر اسے تسلیم نہ کرو گے تو سب انبیاء کو جھوٹا قرار دینا ہوگا کیونکہ ان کی وہ پیشگوئیاں جو اس کے متعلق ہیں غلط تسلیم کرنی ہوں گی۔قرآن کریم کا کتب سابقہ کی تصدیق کرنا قرآن کریم کا یہ طریق ہے کہ بجائے پہلوں کو پچھلوں کا مصدق قرار دینے کے پچھلوں کو پہلوں کا مصدق قرار دیتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح حضرت یحییٰ وغیرہم انبیاء کی نسبت اسی رنگ میں اس نے ذکر کیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ گو پہلوں کی پیشگوئیاں پیچھے آنے والوں کی نسبت ہوتی ہیں مگر بعد میں آنے والے انبیاء ان پیشگوئیوں کو پورا کرکے پہلے انبیاء کی صداقت پر مہر لگاتے ہیں۔اس حقیقت کے بیان کرنے کا بہترین طریق وہی ہے جو قرآن کریم نے اختیار کیا ہے۔کیونکہ یہ کہنا کہ اس نبی کے یا اس کلام کے پہلے انبیاء مصدق ہیں اس قدر مؤثر نہیں ہوسکتا جس قدر یہ کہنا کہ اس کلام کے ذریعہ سے ہی پہلے نبی کی تصدیق ہوتی ہے۔ورنہ اسے جھوٹا ماننا پڑتا ہے اس دلیل کے آگے پہلے انبیاء کے اتباع کو فوراً دبنا پڑتا ہے۔کیا قرآن کریم موجودہ توریت و انجیل کو انسانی دستبرد سے پاک قرار دیتاہے ؟ مسیحی مشنریوں نے اس قسم کی آیات سے ایک انوکھا استدلال کیا ہے اور وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ان آیات سے یہ نکلتا ہے کہ قرآن کریم موجودہ توراۃ و انجیل کو انسانی دستبرد سے پاک قرار دیتا ہے۔حالانکہ یہ کہنا کہ یہ کلام پہلے کلام کا مصدق ہے صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا تھا۔اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ وہ اب تک محفوظ بھی ہے ایک ایسا نتیجہ ہے جو الفاظ سے زائد ہے اور زائد نتیجہ نکالنا درست نہیں ہوتا۔قرآن کریم توراۃ اور انجیل کی تحریف کے حوالہ جات سے بھرا ہوا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اس پر ایک زبردست شاہد ہے۔اگر واقع میں ان آیات کا وہ مطلب ہوتا جو یہ لوگ بتاتے ہیں تو اس وقت کے مسیحی اور یہودی اس پر اعتراض کرتے لیکن ایسا اعتراض ان کی