تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 106
قرآن کریم کے مضامین کی شہادت اس کے منجانب اللہ ہونے پر گواہ ہے اس آیت میں پانچ زبردست ثبوت قرآن کریم کے منجانب اللہ ہونے کے متعلق دیئے ہیں۔اول ثبوت یہ دیا ہے کہ یہ کتاب ایسے مضامین پر مشتمل ہے جو بندہ اپنے طور پر معلوم ہی نہیں کرسکتا۔صرف خدا تعالیٰ ہی بتاسکتا ہے۔کیونکہ فرمایا کہ یہ قرآن خدا تعالیٰ کی مدد کے بغیر بنایا ہی نہ جاسکتا تھا۔جس سے صاف اشارہ کر دیا کہ اس میں وہ مضامین ہیں جو صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ان امور میں سے جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ایک امور غیبیہ ہیں یعنی آئندہ زمانہ کی پیشگوئیاں۔چنانچہ اسی سورۃ میں ہے فَقُلْ اِنَّمَا الْغَيْبُ لِلّٰهِ تو کہہ دے کہ غیب کا علم صرف اللہ کو ہے۔پس جو کلام ایسے امور پر مشتمل ہو جسے خدا تعالیٰ کے سوا کوئی نہیںبتا سکتا اس کے منجانب اللہ ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے؟ تعجب ہے کہ اس حصہ آیت پر ریورنڈ ویری نے بحوالہ برنکمینز نوٹس آن اسلام اپنی تفسیر میں اعتراض کیا ہے کہ یہ بے دلیل دعویٰ ہے صرف یہ کہہ دیا ہے کہ یہ قرآن خدا کے سوا کوئی نہیں بناسکتا تھا۔اور یہ نہیں بتایا کہ کیوں مجھے افسوس ہے کہ ریورنڈ ویری زبان کی ان باریک خوبیوں کے علم سے بالکل محروم ہیں جن کے بغیر کوئی زبان زبان کہلانے کی مستحق ہی نہیں ہوسکتی۔اور خصوصاً عربی زبان تو اس کمال میں خصوصیت رکھتی ہے کہ وہ تھوڑے الفاظ میں زیادہ مضمون بیان کردیتی ہے۔ھٰذَا الْقُرْآنَ میں لفظ ھٰذَا کا افادہ اس آیت میںهٰذَا کا لفظ اس دعویٰ کو واضح کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ قرآن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں بنا سکتا تھا۔بلکہ یہ فرمایا ہے کہ اس قرآن کو حالانکہ قرآن ایک ہی کتاب ہے دو کتابوں کا نام قرآن نہیں کہ ’’اس‘‘ کے لفظ کے لانے کی ضرورت ہوتی۔’’اس‘‘ کا لفظ اس اشارہ کے لئے لایا گیا ہے کہ یہ کتاب اپنے مطالب کے لحاظ سے اس قدر بلند ہے کہ اسے کوئی انسان بنا ہی نہیں سکتا۔اور یہ فقرہ بے دلیل نہیں ہے بلکہ دلیل پر مشتمل ہے اور اس میں صاف بتایا گیا ہے کہ اس کے اندر بعض باتیں ایسی ہیں جو صرف خدا تعالیٰ کی طرف سے آسکتی ہیں۔اور قرآن کریم کے دیکھنے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ وہ باتیں کون سی ہیں۔پس انہی باتوں کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔ہر زبان میں اس قسم کے جملے استعمال کئے جاتے ہیں۔مثلاً اردو میں بھی اس قسم کے فقرے بولے جاتے ہیں۔کہ کیا یہ شخص جھوٹا ہوسکتا ہے یا کیا یہ بات غلط ہوسکتی ہے۔اور کوئی عقل مند ایسا نہ ہوگا جو یہ کہے کہ یہ فقرہ بے دلیل ہے کیونکہ ایسے فقروں کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ ان کی بعض مشہور عام خوبیاں جن کے خاص طور پر بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہر شخص انہیں جانتا ہے ایسی ہیں کہ انہیں مدنظر رکھتے ہوئے ممکن نہیں کہ