تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 105

وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ يُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اور اس قرآن کا اللہ( تعالیٰ) کے سواء( کسی اور) کی طرف سے جھوٹے طور پر بنا لیا جانا (ممکن ہی) نہیں ہو سکتا۔تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَ تَفْصِيْلَ الْكِتٰبِ لَا رَيْبَ بلکہ یہ (تو)اس (کلام الہٰی) کی تصدیق (کرتا )ہے جو اس کے سامنے (موجود )ہے اور کتاب (الہٰی) کی تفصیل فِيْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ۫۰۰۳۸ (بیان کرتاہے )اس میں کچھ بھی شک نہیں ہے (اور یہ) تمام جہانوں کے رب کی طرف سے (نازل شدہ) ہے۔حلّ لُغَات۔اَنْ حَرْفٌ یَجِیْءُ عَلٰی اَرْبَعَۃِ اَوْجُہٍ۔اَحَدُھَا اَنْ تَکُوْنَ حَرْفًامَصْدَرِیًّانَاصِبًا لِلْمُضَارِعِ فَتَکُوْنَ مَعَ صِلَتِھَا عَلٰی حَسْبِ مَایَطْلُبُہَا الْعَامِلُ (اقرب) یعنی اَنْ چار طرح کا ہوتا ہے۔اول یہ کہ وہ فعل سے پہلے آکر اسے مصدر کے معنی میں کر دیتا ہے اور حسب موقعہ و محل جزو کلام بنتا ہے۔ٍٍ تَصْدِیْقٌ اَلتَّصْدِیْقُ نِسْبَۃُ الصِّدْقِ بِالْقَلْبِ اَوِ اللِّسَانِ اِلَی الْقَائِلِ سچا سمجھنا سچا ظاہر کرنا۔صَدَّقَہٗ ضِدُّ کَذَّ بَہٗ سچا قرار دیا۔سچا بتایا۔(اقرب) تفصیل فَصَّلَ الشَّیْءَ جَعَلَہٗ فُصُوْلًا مُتَـمَائِزَۃً کسی چیز یا کسی بات کے کئی حصے قرار دے کر انہیں ایک دوسرے سے ممتاز کرکے دکھایا۔اَلْکَلَامَ بَیَّنَہٗ و اضح اور روشن کیا۔(اقرب) تفسیر۔قرآن انسانی کلام نہیں ہو سکتا اس سے پہلے تو یہ مضمون بیان ہو رہا تھا کہ ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے کلام بھیجے اور یہ کہ اس کے سوا انسان یا معبودان باطلہ میں یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ روحانی ہدایت نامہ بناسکیں۔اور واقع بھی یہ ہے کہ کسی معبود باطل نے ایسا ہدایت نامہ نہیں نازل کیا۔اب اصولی بحث سے سوال زیر بحث کی طرف توجہ کی ہے۔اور اس مخصوص سوال کو لیا ہے کہ کیا قرآن کریم انسانی کلام ہوسکتا ہے؟ اور جواب یہ دیاہے کہ نہیں۔اس آیت میں نہایت لطیف بحث قرآن کریم کے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کے متعلق کی ہے۔مگر مجھے افسوس ہے کہ مفسرین نے اس کی خوبیوں کی طرف پوری توجہ نہیں کی اور بہت محدود روشنی اس پر ڈالی ہے۔