تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 104

وَالشَّکِّ یعنی ظن کے معنی زیادہ تر خیال غالب کے ہوتے ہیں۔اور بعض وقت یقین کے معنی میں اور بعض دفعہ شک کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔وَیَکُوْنُ اِسْمًا وَمَصْدَرًا۔اور یہ لفظ اسمی معنی یعنی غالب خیال یا یقین یا شک پر بھی بولا جاتا ہے۔اور مصدری معنی یعنی غالب خیال رکھنے یا یقین کرنے یا شک کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔اَغْنٰی اَغْنٰی عَنْہُ غِنَاءَ فُلَانٍ نَابَ عَنْہُ وَأَجْزَأَہُ جو فائدہ فلاں شخص سے حاصل ہونا متوقع تھا وہی فائدہ پہنچایا۔اور اس کی نیابت کی۔مَااَغْنٰی شَیْئًا اَیْ لَمْ یَنْفَعْ شَیْئًا فِی مُھِمٍّ وَلَمْ یَکْفِ مُؤُوْنَةً کچھ فائدہ نہ دیا۔(اقرب) تفسیر۔ظن کے تین معنی ہوتے ہیں۔(ا) غالب گمان (۲) شک (۳) یقین۔اس جگہ ظن شک کے معنوں میں آیا ہے۔کیونکہ حق اور غالب گمان کبھی ٹکرایا نہیں کرتے۔غالب گمان جو دلائل پر مبنی ہوتا ہے اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب حق مخفی ہو۔جب حق ظاہر ہو تو پھر غالب گمان کا کوئی موقع ہی نہیں ہوتا۔اس وقت تو صرف ظنون فاسدہ ہی حق کے مقابل پر ڈٹے رہتے ہیں۔کیونکہ ان کی بنیاد دلیل پر نہیں ہوتی ضد پر یا کمزوری نفس پر ہوتی ہے۔شرک کی جڑھ وہم پرستی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ محض اوہام کی بنا پر مشرکانہ خیالات میں مبتلا ہیں ورنہ معبودانِ باطلہ کی طرف سے کوئی ہدایت نامہ تو آیا نہیں۔اور یہ جو فرمایا کہ اکثر لوگ اوہام کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہیں اس سے یہ مراد نہیں کہ بعض لوگ شرک کو بدلائل مانتے ہیں بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ بعض تو لالچ اور حرص سے یا ضد سے شرک میں مبتلا ہیں گو دل میں خوب جانتے ہیں کہ شرک کا عقیدہ جھوٹا ہے۔لیکن اکثر لوگ واقع میں شرک کو صحیح سمجھتے ہیں۔مگر ان کا یہ یقین حقیقی نہیں ہوتا۔جو دلائل پر یا مشاہدہ پر مبنی ہو۔بلکہ صرف اوہام پر اس کی بنیاد ہوتی ہے۔اگر وہ اصولی طور پر غور کریں تو اس وہم سے چھٹ سکتے ہیں۔مخالفین کی مخالفت کو حتی الوسع بد دیانتی پر محمول نہیں کرنا چاہیے اس آیت میں پھر قرآن کریم نے اس صداقت کا اظہار کیا ہے کہ اپنے مخالف لوگوں کو بددیانت اور جھوٹا نہیں کہنا چاہیے۔اکثر لوگ واقع میں اپنے مذہب کو سچا سمجھتے ہیں گو اس پر یقین کی وجہ بھی ان کے نفس کی کمزوری سے پیدا ہوتی ہے۔کیونکہ وہ سچائی کے معلوم کرنے کی پوری کوشش نہیں کرتے اور سستی سے کام لیتے ہیں۔