تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 103

تفسیر۔معبود حقیقی وہی ہے جو ہادی حقیقی ہے یعنی اگر خدا تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا تو کیا تمہارے معبود ہدایت دیتے ہیں۔اگر وہ ہدایت دیتے ہوں تو بے شک تم کہہ سکتے ہو کہ اب خدا تعالیٰ نے ہدایت کا کام ان کے سپرد کر چھوڑا ہے۔مگر کیا ایک مثال بھی اس کی پیش کرسکتے ہو کہ کسی بت یا معبود باطل کی طرف سے کوئی شریعت یا ہدایت نامہ آیا ہے؟ یہ عجیب بات ہے کہ شرک تو دنیا میں بہت پھیل رہا ہے مگر ایک کتاب بھی دنیا میں موجود نہیں جسے دنیا کی ہدایت کا دعویٰ ہو اور جس کی نسبت یہ کہا گیا ہو کہ کسی بت یا کسی معبود باطل نے اسے بطور وحی کسی پر اتارا ہے۔ہر قسم کے جھوٹ بنے ہیں مگر ایسی کتاب کا جھوٹا دعویٰ کسی نے نہیں کیا۔پس جب جھوٹے طور پر بھی کسی بت کی طرف ہدایت منسوب نہیں تو کیا وجہ ہے کہ مشرک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کے آنے کا انکار کرتے ہیں؟ آخر جس نے پیدا کیا ہے ضرور ہے کہ اپنے بندوں کی ہدایت کا کوئی سامان کرے۔ساتھ ہی شرک کا بھی رد فرما دیا۔کہ اَفَمَنْ يَّهْدِيْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ يُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا يَهِدِّيْۤ اِلَّاۤ اَنْ يُّهْدٰى وہ جو حق کی طرف ہدایت دیتا ہے وہ اس قابل ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے یا وہ جسے جب تک ہدایت نہ دی جائے خود بھی ہدایت نہیں پاسکتا۔ہدایت سےمراد ہدایت سے مراد اس جگہ روحانی امور کی ہدایت بھی ہوسکتی ہے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ پر چلانا بھی اور یہ معنی بتوں پر صادق آتے ہیں کہ جن کو لوگ ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ رکھ دیتے ہیں۔انبیاء بھی ہادی ہیں مَنْ يَّهْدِيْۤ اِلَى الْحَقِّ سے مراد میرے نزدیک انبیاء بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ بھی ہدایت دینے کے لئے آتے ہیں۔اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ انبیاء اس قابل ہیں کہ ان کی پیروی کی جائے یا وہ بت یا ان کے پجاری جو خود ہدایت کے محتاج ہیں۔اور نبیوں کی تعلیم کے مقابل پر کوئی ایسی تعلیم نہیں پیش کرسکتے جو ان کے معبودوں نے اتاری ہو۔وَ مَا يَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ اور ان میں سے اکثر (اپنے )وہم کے سوا (اور کسی چیز) کی پیروی نہیں کرتے (حالانکہ) وہم حق کی جگہ کچھ بھی کام الْحَقِّ شَيْـًٔا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْنَ۰۰۳۷ نہیں دیتا۔جو کچھ یہ (لوگ )کرتے ہیں( اسے)اللہ( تعالیٰ) یقیناً خوب جانتا ہے۔حلّ لُغات۔ظَنَّ اَلظَّنُّ ھُوَ الْاِعْتِقَادُ الرَّاجِحُ مَعَ اِحْتِمَالِ النَّقِیْضِ۔وَیُسْتَعْمَلُ فِی الْیَقِیْنِ