تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 5

مذاہب والے کہتے ہیں کہ نیکی کرو۔مگر اسلام کہتا ہے کہ نیکی کرو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھو۔یہ کام کوئی معمولی کام نہیں۔ایک دو کامقابلہ ہو تو کوئی بات بھی ہے لیکن یہاں تو لاکھوں کا مقابلہ ہے جب ایک دو کے مقابلہ میں بھی تیاری کی ضرورت ہوتی ہے تو جہاں لاکھوں میں مقابلہ ہو وہاں کتنی بڑی تیاری کی ضرورت ہو گی۔گھوڑدوڑ میں دیکھ لو کتنی تیاری کی جاتی ہے۔جب لوگ اس میں حصہ لیتے ہیں تو کتنی کوشش اور تیاری کرتے ہیں لیکن جہاں لاکھوں اور کروڑوں افراد ہوں وہاں تو جتنی تیاری کی ضرورت ہو سکتی ہے اسے ہر انسان آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے۔غرض اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی شناخت کا یہ معیار بیان فرمایا ہے کہ وہ تسابق اختیار کرتے ہیں اور نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش یقیناً ہر قوم کے معیار کو اتنا بلند لے جاتی ہے کہ اس کا انسان قیاس بھی نہیں کر سکتا۔جب کبھی نیکی دنیا سے مفقود ہو جائے یا جب کبھی نیکی میں آگے بڑھنے کی رُوح مفقود ہو جائے اس وقت قوم یا تو مرنا شروع ہو جاتی ہے یا گرنا شروع ہو جاتی ہے لیکن جب تک تسابق کی روح کسی قوم میں قائم رہے۔اس وقت تک خواہ وہ کتنی بھی ذلّت میں پہنچی ہوئی ہو اور کتنی بھی گِری ہوئی ہو پھر بھی اپنی چمک دکھلاتی چلی جاتی ہے اور اس کے لئے موقعہ ہوتا ہے کہ وہ پھر آگے بڑھے۔ہمارے قریب کے بزرگوں میں سے ایسے زمانہ میں جب مسلمانوں پر ایک قسم کے تنزل کی حالت آگئی تھی ایسی مثالیں پائی جاتی ہیں کہ تسابق کی وجہ سے ان لوگوں کے واقعات سن کر انسان کے دل میں گرمی پیدا ہو جاتی ہے۔سید اسمٰعیل صاحب شہید جو تیرھویں صدی میں گذرے ہیں حضرت سیداحمد صاحب بریلوی کے مرید تھے۔اور سید احمد صاحب بریلوی سکھوں سے جہاد کرنے کے لئے پشاور کی طرف گئے ہوئے تھے۔سید اسمٰعیل صاحب کسی کام کے لئے دہلی آئے ہوئے تھے۔جب دہلی سے واپس جاتے ہوئے کیمبل پور کے مقام پر پہنچے تو کسی نے ان سے ذکر کیا کہ اس دریا کو یہاں سے تیر کر کوئی شخص نہیں گذر سکتا۔اس زمانہ میں صرف فلاں سکھ ہے جو گذر سکتا ہے مسلمانوں میں سے کوئی اس کا مقابلہ کرنے والا نہیں۔وہ وہیں ٹھہر گئے اور کہنے لگے کہ اچھا ایک سکھ ایسا کام کرتا ہے کہ کوئی مسلمان نہیں کر سکتا۔اب جب تک میں اس دریا کو پار نہ کر لوںگا میں یہاں سے نہیں ہلوںگا۔چنانچہ وہیں انہوں نے تیر نے کی مشق شروع کر دی۔اور چار پانچ مہینہ میں اتنے مشّاق ہو گئے کہ تیر کر پار گذرے اور پار گذر کر بتا دیا کہ سکھ ہی اچھے کام کرنے والے نہیں بلکہ مسلمان بھی جب چاہیں ان سے بہتر کام کر سکتے ہیں۔اس تسابق کی روح کو جب بھی ہم اپنے سامنے لاتے ہیں ہماری روحوں میں ایک بالیدگی پیدا ہو جاتی ہے۔ہمارے دلوں میں گرمی پیدا ہو جاتی ہے۔اور ہمارے دماغوں میں عزم پیدا ہو جاتا ہے کہ ہم اپنے مخالف یا مدِّ مقابل یا رقیب سے کسی صورت میں بھی دبیں گے نہیں۔اسلام اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ ہم نیکیوں کے مقابلہ