تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 4
استباق کی طرف بلاتاہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔دنیا میں ہر قوم نے ایک ایک طرف اختیار کر لی ہے اور نیکی کی طرف سے اپنا منہ پھیر لیا ہے۔وہ کہتے تو یہی ہیں کہ ہم نیکی کی طرف لے جاتے ہیں لیکن واقعہ میں ایسا نہیں کرتے۔پس اُن کے اور اطراف کو اختیار کرلینے کی وجہ سے نیکی کی طرف بالکل خالی رہ گئی ہے۔تم اس کو لے لو اور اوّل تو نیکی اختیار کرو اور پھر نیکیوں میں استباق کرو۔اور دوسروںسے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔اللہ تعالیٰ نے یہاں استباق کا لفظ رکھا ہے جس میں بظاہر سرعت اور تیزی نہیں پائی جاتی اس لئے کہ اگر دو آدمی سُست روی سے جا رہے ہوں اور ایک ان میں سے کسی قدر آگے بڑھ جائے تو لغت کے اعتبار سے اس نے استباق کر لیا۔اسی طرح ہر کام میں تھوڑا سا بڑھنے کا نام استباق رکھا جاسکتا ہے لیکن دراصل اس لفظ میں انتہا درجہ کی سرعت اور تیزی سے آگے بڑھنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔کیونکہ ہر شخص کے لئے یہ حکم ہے کہ وہ استباق کرے۔اب اگر ایک شخص کوشش سے کچھ آگے بڑھے تو دوسرے کے لئے بھی حکم ہے کہ وہ اس سے آگے بڑھے۔اور جب وہ اس سے آگے بڑھے گا تو پھر پہلے کو وہی حکم آگے بڑھنے کے لئے تیار کر دے گا۔غرض ہر ایک کے لئے استباق کا حکم ہے۔اور ہر شخص جہاں تک انسانی طاقت میں ہے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرےگا اور اس طرح اُس کی نیکیوں میں ترقی کرنے کی رفتار بہت تیز ہو جائے گی۔یوں تو فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ کی بجائے بعض اور الفاظ بھی رکھے جا سکتے تھے مثلاً فَاسْعَوْا بھی رکھا جاسکتا تھا۔مگر جو حقیقت فَاسْتَبِقُوْا میں رکھی گئی ہے وہ کسی اور میں نہیں آسکتی تھی۔درحقیقت اس جگہ قرآن کریم اسلام اور دیگر مذاہب کا مقابلہ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ تمام مذاہب خیرات کی طرف سے غافل ہیں اور خیرات کی حقیقت سے ناواقف ہیں پس اس وقت مسلمانوں کے لئے موقعہ ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کریں۔یہ لفظ ایسا جامع ہے کہ جس سے بڑھ کر کسی مقصد اور مدعا کی طرف دوڑنے اور اُسے جلدی سے حاصل کرنے کا مفہوم کسی اور لفظ سے ادا ہی نہیں ہو سکتا۔ہو سکتا ہے کہ ایک شخص دوڑے مگر پوری طاقت سے نہ دوڑے۔جلدی کرے مگر جس قدر چاہیے اس قدر جلدی نہ کرے لیکن استباق کے حکم کا اس وقت تک پورا ہونا ناممکن ہے جب تک کہ پورے زور اور پوری طاقت سے کام نہ لیا جائے۔اس لئے کہ جب ایک شخص سے دوسرا بڑھتا ہے تو اس کو بھی تو حکم ہے کہ آگے بڑھو۔اس لئے وہ اس سے زیادہ تیزی سے بڑھے گا۔پھر پہلے کے لئے حکم آجائے گا کہ تم آگے بڑھو۔اور وہ اس سے زیادہ تیزی اختیار کرےگا۔حتیّٰ کہ جس قدر کسی میں طاقت اور ہمت ہوگی وہ سب اس میں صرف کر دےگا۔پس استباق بظاہر اپنے اندر تیزی اور دوڑنے اور جلدی کرنے کے معنے نہیں رکھتا مگر حقیقت میں یہ لفظ اس قدر تیزی پر دلالت کرتا ہے کہ جس قدر کسی انسان کی طاقت میں ہوتی ہے۔دوسرے