تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 6

میں سست ہوں۔بلکہ نیکی کے میدان میں اپنے باپ اور بھائی سے بھی آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اسی طرح قومی وقار اور اعزاز کو ہمسایہ قوموں سے آگے بڑھانے کے لئے علمی، اقتصادی، سیاسی اور اخلاقی امور میں ان سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔قرآن کریم نے فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ کہہ کر اور ایک جگہ وَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا (النازعات:۵) فرما کر اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اس دنیا میں مقابلہ ہو رہا ہے۔تمہارا فرض ہے کہ اس مسابقت میں سب سے آگے نکلنے کی کوشش کرو۔ہماری جماعت کو بھی چاہیے کہ ہم میں سے ہر فرد اپنے نفس کو ٹٹولتا رہے اوردین کے ساتھ ایک گہری محبت اور شیفتگی پیدا کرنے کی کوشش کرے۔اور سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے بس یہی ایک مقصد اپنے سامنے رکھے کہ ہم نے اسلام کو دنیا میں غالب کرنا ہے۔جب تک یہ روح ہمارے اندر پیدا نہیں ہوتی اُس وقت تک ہم اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔اس آیت کا پہلی آیت سے یہ تعلق ہے کہ اوپر یہ بتایا گیا تھا کہ یہود نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کو اپنا مقصد قرار دیا ہوا ہے چنانچہ فرمایا تھا وَلَئِنْ اٰتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ بِکُلِّ اٰیَۃٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَکَ یعنی اگر تو اہل کتاب کے پاس ہر قسم کا نشان بھی لے آئے تب بھی وہ تیرے قبلہ کی پیروی نہیں کریںگے گویا خواہ ان کے ہاتھ سے خدا جائے یا اس کا رسول جائے انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت ضرور کرنی ہے۔اور یہ نتیجہ ہے اس امر کا کہ انہوں نے اپنا کوئی اعلیٰ مقصد قرار نہیں دیا ہوا۔پس چاہیے کہ تم اپنا ایک اعلیٰ مقصد قرار دے لو مگر یہ یاد رکھو کہ کوئی ایک نیکی اپنا مقصد قرار دے لینا کافی نہیں بلکہ الخیرات یعنی سب نیکیوں کو اپنا مقصد قرار دو اور جب بھی تمہیں کوئی نیک بات معلوم ہو بلا کسی اور خیال کے اُس کوحاصل کرنے کی کوشش کرو۔اور اس سے دُور رہنے کو ہلاکت سمجھو۔اور دوسری بات یہ مدِّ نظر رکھو کہ نیکی کے حصول کے وقت تسابق کو مدِّنظر رکھو یعنی ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔اور تیسری بات یہ مدِّنظر رکھو کہ اگر تمہارا قدم دوسروں کی سُستی کی وجہ سے یا تمہاری چستی کی وجہ سے آگے پڑ رہا ہے تو دوسروں سے صرف بعض نیکیوں میں آگے رہنے کو کافی نہ سمجھو بلکہ جس قدر جلد ہو سکے ہر قسم کی خیرات کے حصول کے لئے قدم بڑھائو۔اسی کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں بھی توجہ دلائی ہے کہ کَلِمَۃُ الْحِکْمَۃُ ضَا لَّۃُ الْمُؤْمِنِ اَخَذَ ھَا حَیْثُ وَجَدَ ھَا (ابن ماجہ کتاب الزھد باب الحکمۃ ) یعنی حکمت کی بات مومن کی ایک گمشدہ متاع ہوتی ہے وہ جہاں سے بھی ملے اسے فوراً لے لیتا ہے۔اس حدیث میں ایک تو اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ مومن کوئی بات بھی بغیر حکمت کے نہیں کرتا۔تمام خوبیاں اس کے اندر پائی جاتی ہیں اور تمام نیکیاں اُس کے اندر جمع ہوتی ہیں۔اور دوسرے اس امر کی نصیحت کی گئی ہے کہ اُسے جب بھی کوئی حکمت