تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 72

طرف سے اس کے پاس آیا انہی معنوں میں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ جنتیوںکی نسبت فرماتا ہے یَطُوْفُ عَلَیْھِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ (الواقعۃ :۱۸) یعنی اُن کے پاس بار بار نوجوان خادم اُن کی خدمت کے لئے آئیں گے اس جگہ صفا اور مروہ کے گرد گھومنا مراد نہیں بلکہ بار بار اُن کے پاس جانا مراد ہے۔تَطَوَّعَ کے معنے ہیں تَبَرَّعَ بِلَا قَصْدِ اُجْرَۃٍ بِاِحْتِمَالِ مُشَقَّۃٍ کسی نیکی کو بغیر اُجرت اور بدلہ کی خواہش کے کرنا(۲) تکلیف اٹھا کر کوئی کام کرنا۔اسی لئے والنٹیر کو عربی زبان میں مطاوع کہتے ہیں۔کیونکہ وہ بغیر تنخواہ کے آنریری طور پر کام کرتا ہے۔(مفردات) شَاکِرٌ جب یہ لفظ خدا تعالیٰ کے لئے آئے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ انعام نازل کرتا ہے یا حکم بجا لانے پر جزا دیتا ہے۔اور جب یہ بندہ کے لئے آئے تو اُس وقت اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کا شکر گذار ہوتا ہے۔(مفردات) تفسیر۔اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآىِٕرِ اللّٰهِ فرماتا ہے۔صفا اور مروہ دونوں پہاڑیاں یقیناً اللہ تعالیٰ کے نشانات میں سے ہیں۔یہ وہ پہاڑیاں ہیں جن کے درمیان حج اور عمرہ میں خانہ کعبہ کے طواف کے بعد سعی کی جاتی ہے او رسات دفعہ چکر لگایا جاتا ہے۔بعض نے کہا ہے کہ چودہ دفعہ دوڑنا چاہیے۔مگر یہ کمزور خیال ہے۔اصل میں سات دفعہ ہی سعی ہے اور یہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے (بخاری کتاب الحج باب ما جاء فی السعی بین الصفا و المروة)۔صفا سے شروع کر کے مروہ پر جاتے ہیں اور وہاں سے صفا پرآتے ہیں۔یہ سعی چونکہ حضرت ہاجرہ اور حضرت اسمٰعیل علیہما السلام کی یاد گار ہے اس لئے یہ پہاڑیاں اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا نشان ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا گیا تھا کہ اپنی بیوی ہاجرہ اور بچے اسمٰعیل کو عرب کی بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ آئو۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس حکم کی تعمیل کی اور حضرت ہاجرہ اور اسمٰعیل کو انہوں نے خانہ کعبہ کے پاس لاکر بسا دیا جہاں پانی کا ایک قطرہ اور گھاس کی ایک پتی تک نہ تھی۔صرف ایک مشکیزہ پانی اور ایک تھیلی کھجوروں کی آپ نے انہیں دی اور پُرنم آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دُعائیں مانگتے ہوئے رخصت ہو گئے۔جب پانی ختم ہوا تو حضرت اسماعیل علیہ السلام کو پیاس لگی۔اور آخر شدت پیاس کی وجہ سے وہ تڑپنے لگ گئے حضرت ہاجرہ سے اُن کی پیاس کی تکلیف دیکھی نہ گئی۔اور وہ پانی کی تلاش میں اِدھر اُدھر دوڑیں۔مگر پانی نہ ملا۔قریب ہی صفا پہاڑی تھی وہ دوڑ کر اُس پر چڑھ گئیں۔کہ شاید کوئی شخص نظر آئے اور وہ اُس سے پانی مانگیں۔مگر جب وہاں سے کوئی شخص دکھائی نہ دیا تو دوسری پہاڑی مروہ پر دوڑ کر چڑھ گئیں اور وہاں سے بھی کوئی آدمی نظر نہ آیا۔تو پھر صفا کی طرف آئیں اور