تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 71

پتھروں کو کہتے ہیں جن سے لوگ آگ نکالتے ہیں۔مروہ بھی ایک پہاڑی کانام ہے جو بیت اللہ کے پاس ہے اور اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے پتھروں سے بنی ہوئی ہے۔غرض صفا اور مروہ دو پہاڑیوں کا نام ہے جو خانہ کعبہ کے پاس ہیں۔اور اب خانہ کعبہ وسیع ہو کر اُن کو آ لگا ہے اور ایک دروازہ ان میں آکر کھلتا ہے ان پر ایک بازار ہے جو سوقِ صفا کہلاتا ہے اور شہر کا حصہ ہے اور اسی بازار میں اب سعی ہوتی ہے پہلے دونوں پہاڑیاں الگ الگ تھیں لیکن اب بھرتی پڑ کر مل گئی ہیں اور ایک ہی معلوم ہوتی ہیں صرف دو نشان لوگوں نے سعی کے لئے بنا رکھے ہیں جن سے سعی شروع کرنے اور ختم کرنے کا حال انسان کو معلوم ہوتا ہے۔(اقرب) شَعَائِرـ شَعِیْرَۃٌ کی جمع ہے اس کے معنے علامت آیت اور نشان کے ہوتے ہیں اور عبادات کے مقررہ طریقوں کو بھی شعیرۃ کہتے ہیں۔یہاں علامت کے معنی مراد ہیں۔حَجَّ حج کے اصل معنے قصد کے ہیں مگر اصطلاح شریعت میں اس کے معنے ذوالحجہ میں بیت اللہ جانے اور وہاں خاص احکام بجالانے کے ہیں۔اِعْتَمَرَ اِعْتَمَرَالْمَکَانَ کے معنے ہوتے ہیں قَصَدَہٗ وَ زَارَہٗ۔کسی بزرگی رکھنے والے مکان کی طرف جانے کا قصد کیا۔اور اس کی زیارت کی۔اسی طرح کہتے ہیں اِتَّخَذْ نَا نَادِیًا نَعْتَمِرُہٗ۔کہ ہم نے ایک ایسی مجلس قائم کی ہے جس میں ہم بار بار جاتے ہیں اور ہماری آپس میں ملاقات ہوتی ہے پس اعتمار کے اصل معنے کسی شہر کی زیارت یا کسی ایسے مکان کی طرف جانے کے ہیں جو اپنی بزرگی یا دوستوں کی ملاقات کے لحاظ سے قابلِ اعزاز ہو۔لیکن شریعت میں طواف بیت اللہ اور صفا اور مروہ کی سعی کا نام ہے۔اور یہ عبادت سال کے ہر حصہ میں ہو سکتی ہے لیکن حج کا ایک خاص وقت مقرر ہے اسی طرح حج اور عمرہ میں یہ فرق ہے کہ عمرہ میں وہیں سے احرام باندھ لیتے اور سر منڈا لیتے ہیں۔لیکن حج میں مقررہ جگہوں سے احرام باندھنا ضروری ہوتا ہے۔جُنَاحٌ جَنَحَ کے معنے ہوتے ہیں مَالَ یعنی جُھک گیا۔پروں کو بھی اور بازوئوں کوبھی اسی لئے جناح کہتے ہیں اور گناہ کو بھی جناح اسی لئے کہتے ہیں کہ اس میں انسان بدی کی طرف جُھک جاتا ہے۔گناہ کا لفظ دراصل جناح کی ہی بگڑی ہوئی شکل ہے۔یَطَّوَّفَ طَوَّفَ حَوْلَ الشَّیْءِ وَبِہٖ کے معنے ہیں طَافَ وَاَکْثَرَ الْمَشْیَ حَوْلَہٗ اس نے کسی چیز کے ارد گرد چکر لگایا اور کثرت کے ساتھ گھوما (اقرب) طَافَ یَطُوْفُ بھی انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔چنانچہ لسان العرب میں لکھاہے طَافَ بِالْقَوْمِ وَ عَلَیْھِمْ کے معنے ہیں اِسْتَدَارَوَجَآءَ مِنْ نَوَاحِیْہِ اس نے چکر لگایا اور کناروں کی