تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 73
اس طرح انہوں نے سات چکر کاٹے۔آخری چکر میں جب وہ مروہ پر تھیں ان کو ایک آواز آئی۔حضرت ہاجرہ نے پکار کر کہا۔کہ اے شخص! جس کی یہ آواز ہے اگر تو ہماری مدد کر سکتا ہے تو کر۔یہ آواز اللہ تعالیٰ کے ایک فرشتہ کی تھی۔اُس نے کہا ہاجرہ جا اور دیکھ کہ اسمٰعیل کے پائوں کے نیچے خدا تعالیٰ نے ایک چشمہ پھوڑ دیا ہے۔چنانچہ وہ واپس آئیں اور انہوں نے دیکھا کہ جہاں حضرت اسمٰعیل علیہ السلام شدتِ پیاس کی وجہ سے تڑپ رہے تھے۔وہاں پانی کا ایک چشمہ پھوٹ رہا ہے اور بڑے زور سے اس میں سے پانی نکل رہا ہے۔زمزم کا کنوآں وہی چشمہ ہے جو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے لئے معجزانہ طور پر پھوڑا گیا تھا۔چنانچہ اس چشمہ کی وجہ سے پھراس قدر ترقی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے وہاں عظیم الشان شہر قائم کر دیا۔غرض صفا اور مروہ کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جو لوگ صبر کرتے اور استقامت کے ساتھ خدمت دین میں حصہ لیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔وہ ہاجرہ اور اسمٰعیل کی طرح انہیں اپنے آسمانی نشانات دکھاتا اور دائمی زندگی اور غیر معمولی انعامات عطا کرتا ہے۔اگر تم بھی صبر کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بھی ایسے ہی انعامات سے نوازے گا اور تمہیں بھی شعائر اللہ میں داخل کردےگا۔فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا۔چونکہ بعض لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ صفا اور مروہ پر جانا گناہ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لَاجُنَاحَ ورنہ یہ مراد نہیں کہ جائو یا نہ جائو تمہارا اختیار ہے۔کیونکہ حج اور عمرہ میں صفا اور مروہ کے درمیان سعی ضروری ہوتی ہے اسی طرح فَـلَاجُنَاحَ کے یہ بھی معنے ہیں کہ طواف جائز ہے۔کیونکہ جب اس چیز کے متعلق جسے لوگ حرام جانیں فتویٰ دیا جائے تو اس وقت اس فقرہ کے معنے صرف اس خیال کی نفی کرنی ہوتی ہے نہ کہ اس کا جواز بتانا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہی مذہب تھا کہ طواف ضروری ہے چنانچہ بخاری جلد اوّل باب و جوب الصفا و المروۃ وجعل من شعائر اللہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے عروہ بن زبیر سے ایک روایت مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ اس آیت سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ طواف جائز ہے ضروری نہیں۔اس پر انہوں نے جواب دیا کہ بِئْسَمَا قُلْتَ یَا بْنَ اُخْتِیْ اِنَّ ھٰذِہٖ لَوْ کَانَتْ کَمَا اَوَّ لْتَھَا عَلَیْہِ کَانَتْ لَاجُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ لَایَتَطَوَّ فَ بِھِمَا (بخاری کتاب الحج باب وجوب الصفا المروة)۔یعنی اے میرے بھانجے! تو نے یہ بہت ہی غلط استدلال کیا ہے۔اگر یہ بات اسی رنگ میں ہوتی جیسا کہ تم کہہ رہے ہو تو عبارت یوں ہوتی کہ لَاجُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ لَا یَطَّوَّفَ بِھِمَا اور پھر فرمایا وَقَدْ سَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بَیْنَھُمَا فَلَیْسَ لِاَ حَدٍ اَنْ یَّتْرُکَ الطَّوَافَ بَیْنَھُمَا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہی