تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 519 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 519

جائے تو اسے ادائیگی کا احساس نہیں رہتا۔اس وسوسہ کے ازالہ کے لئے فرمایا کہ جب تم ایک دوسرے کو قرض دو۔تو معاہدہ لکھوا لیا کرو کہ فلاں وقت کے اندر اندر ادا کردوں گا تاکہ تمہارا روپیہ بھی محفوظ رہے اور دوسرے شخص کو بھی اپنی ذمہ واری کا احساس رہے۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر قرض اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ہو تو لکھ لیا کرو اور اگراِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى نہ ہو تو بے شک نہ لکھو۔اس لئے کہ جب کو ئی شخص کسی کو قرض دیتا ہے تو بہر حال ایک اَجَلٍ مُّسَمًّى کے لئے ہی دیتا ہے خواہ وہ میعاد تھوڑی ہو یا بہت۔اس کے بعد وہ اسے وصول کرنے کا حقدار ہوتا ہے۔یہ تو کبھی نہیں ہوا کہ کسی نے دوسرے کو قرض دیا ہو اور پھر اس کے واپس لینے کا اس کے اندر کوئی احساس ہی نہ ہو۔ہدیۃً یا امداد کے رنگ میں اگر کسی کو کوئی رقم دی جائے تو وہ ایک علیٰحدہ امر ہے۔لیکن جس چیز پر قرض کے لفظ کا اطلاق ہو گا وہ بہرحال اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ہی ہو گی۔خواہ زبان سے کوئی میعاد مقرر کی جائے یا نہ کی جائے۔ہاں اگر خاص وقت کے لئے قرض نہیں بلکہ یونہی ایک دو گھنٹہ کے لئے یا ایک دو دن کے لئے ہے تو ایسی صورت میں اگر نہ لکھا جائے تو کوئی شرعی گناہ نہیں۔افسوس ہے کہ مسلمان ان دونوں باتوں کی پرواہ نہیں کرتے۔یعنی نہ تو قرض دیتے وقت دوستی اور محبت کے نقطۂ نگاہ سے کوئی مدت مقرر کرتے ہیں۔بلکہ کہہ دیتے ہیں کہ جب جی چاہے دے دینا اور نہ اسے ضبطِ تحریرمیں لاتے ہیں جس کی وجہ سے بعد میں بہت سی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور انہیں اس کے تلخ نتائج سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔وَلْیَکْتُبْ بَیْنَکُمْ کَاتِبٌ بِالْعَدْلِ۔تیسرا حکم یہ دیا کہ لکھنے والا کوئی اور شخص ہو۔قرض دینے والا یا لینے والا نہ لکھے بلکہ ایک غیرشخص ہو جو عدل اور انصاف کے ساتھ لکھے۔یعنی اپنی طرف سے اس معاہدہ میں کوئی بات نہ ملائے بلکہ وہی کچھ لکھے جس کے لکھنے کا اسے حکم دیا گیا ہے۔پھر کاتب کو حکم دیا کہ وہ لکھنے سے انکار نہ کرے بلکہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے سکھایا ہے اسی طرح اسے چاہیے کہ وہ لکھے یا یہ کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے لکھنا سکھایا ہے وہ لکھنے سے انکار نہ کرے۔کَمَا عَلَّمَہٗ کے دونوں معنے ہو سکتے ہیں۔یہ بھی کہ جتنا ہنر اس کو حاصل ہو اس کے مطابق لکھے۔اور یہ بھی کہ چونکہ خدا تعالیٰ نے اس پر فضل کیا ہے اسے بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کو فائدہ پہنچائے۔یہ نہ ہو کہ وہ انکار کر دے اور ضرورت مند قرض نہ ملنے کی وجہ سے پریشان ہو۔وَلْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْہِ الْحَقُّ۔چوتھا حکم یہ دیا کہ جس کے ذمہ حق ہو وہ املاء کر وائے۔یعنی روپیہ لینے والے کو چاہیے کہ وہ خود تحریر لکھوائے۔اس میں ایک بہت بڑی حکمت ہے۔بظاہر تو یہ چاہیے تھا کہ روپیہ دینے والا