تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 518 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 518

دوسرے سے قرض لیا۔(اقرب) یُمْلِلْ اَمْلَلْتُ الْکِتٰبَ عَلَی الْکَاتِبِ اِمْلَالًا وَ اَمْلَیْتُہٗ عَلَیْہِ اِمْلَاءً کے معنے ہیں اَلْقَیْتُہٗ عَلَیْہِ اَیْ قُلْتُ لَہٗ فَکَتَبَ عَلَیَّ۔یعنی اَمْلَلْتُ الْکِتَابَ عَلَی الْکَاتِبِ کے یہ معنے ہیں کہ میں نے کاتب کو کچھ مضمون لکھوایا جسے اس نے لکھ لیا۔پس یُمْلِلْ کے معنے ہیں لکھوائے۔اِملاء بھی اسی میں سے ہے۔(اقرب) سَفِیْہٌ کے معنے کم علم اور جاہل کے ہیں۔(اقرب)لیکن امام شافعی ؒ نےمُسرف کے معنے کئے ہیں(روح المعانی) اور مجھے بھی یہی پسند ہیں۔جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے اَنُؤْمِنُ کَمَا اٰمَنَ السُّفَھَآءُ۔(البقرۃ:۱۴) یعنی منافق کہتے ہیں ہم تو انکار کر کے اپنا مال بچاتے اور اسے محفوظ رکھتے ہیں۔ان کوکیا معلوم کہ مال کی حفاظت کس طرح کی جاتی ہے ؟ یہ لوگ تو ایمان لا کر اپنا مال تباہ کر لیتے ہیں۔تفسیر۔اوپر کی آیات میں قومی تباہی کا ایک بہت بڑا سبب اللہ تعالیٰ نے سُود بتایا تھا۔اب دوسرا سبب قومی تنزل کا یہ بتاتا ہے کہ لین دین کے معاملات میں احتیاط سے کام نہیں لیا جاتا۔قرض دیتے وقت تو دوستی اور محبت کے خیال سے نہ واپسی کی کوئی میعاد مقرر کرائی جاتی ہے اور نہ اسے ضبط تحریر میں لایا جاتا ہے اور جب روپیہ واپس آتا دکھائی نہیں دیتا تو لڑائی جھگڑا شروع کر دیا جاتا ہے یہاں تک کہ مقدمات تک نوبت پہنچ جاتی ہے اور تمام دوستی دشمنی میں تبدیل ہو کر رہ جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپس کے تعلقات کو خراب مت کرو اور قرض دیتے یا لیتے وقت ہماری ان دو ہدایات کو ملحوظ رکھو۔اول یہ کہ جب تم کسی سے قرض لوتو اس قرض کی ادائیگی کا وقت مقرر کر لو۔دومؔ روپیہ کا لین دین ضبطِ تحریر میں لے آئو۔اس شرط کا ایک بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ اس طرح مقروض کو احساس رہتا ہے کہ فلاں وقت سے پہلے پہلے میں نے قرض ادا کرنا ہے اور وہ اس کی ادائیگی کے لئے جدوجہد کرتا رہتا ہے اور پھر ایک اور فائدہ یہ ہے کہ قرض لینے والا ایک معیّن میعاد تک اطمینان کی حالت میں رہتا ہے اور اسے یہ خدشہ نہیں رہتا کہ نہ معلوم قرض دینے والا مجھ سے کب اپنے روپیہ کا مطالبہ کر دے ؟غرض اس میں دینے والے کا بھی فائدہ ہے اور لینے والے کا بھی۔قرض دینے والے کا فائدہ تو یہ ہے کہ مثلاً ایک مہینے کا وعدہ ہے تو وہ ایک مہینہ کے بعد جا کر طلب کرے گا۔یہ نہیں کہ اس کو روز روز پوچھنا پڑے اور قر ض لینے والے کا فائدہ یہ ہے کہ جب وہ قرض لینے لگے گا تو سوچے گا کہ میں جتنے عرصے میں ادا کرنے کا وعدہ کرتا ہوں اتنے عرصہ میں ادا بھی کر سکوں گا یا نہیں۔اس کے علاوہ یہ شرط اس لئے بھی عاید کی گئی ہے کہ بعض کمزور لوگ اعتراض کر سکتے تھے کہ ہم سُود پر روپیہ اس لئے دیتے ہیں کہ قرض لینے والے کو اس کی ادائیگی کا فکر رہتا ہے اور وہ کوشش کرتا ہے کہ جلد اس قرض سے سبکدوش ہو جائوں۔لیکن اگر سود نہ لیا