تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 520 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 520

لکھوائے۔مگر یہ حکم نہیں دیا۔بلکہ اس کی ذمہ واری قرض لینے والے پر رکھی ہے اورا س کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ روپیہ لینے والے کی ضرورت روپیہ مل جانے کی وجہ سے پوری ہو جاتی ہے۔وہ اس وقت اپنے اندر خوشی کی ایک لہر محسوس کرتا ہے اور روپیہ کی طرف سے لاپرواہ ہو جاتا ہے۔اس لئے ہو سکتا ہے کہ وہ بعد میں ضرورت پوری ہونے پر کہہ دے کہ مجھے تو اس وقت یہ خیال ہی نہ تھا کہ کیا لکھوا رہے ہیں اس لئے اسے کہا کہ وہ خود ہی لکھوائے تاکہ اس کی زبان کا اقرار موجود رہے ورنہ جس نے روپیہ دیا ہوتا ہے وہ توچوکس ہی ہوتا ہے کیونکہ اس نے تو اپنے پاس سے رقم دی ہوئی ہوتی ہے۔اس لئے اس کو تو بہرحال یاد ہی رہتا ہے کہ میں نے اس قدر روپیہ دیا ہوا ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ تحریر اس کے پاس رہے گی جس نے روپیہ دیا ہے۔پس اس کے لئے تو موقعہ ہے کہ دیکھ لے کوئی غلطی تو نہیں ہو گئی۔مگر لینے والے کے پاس تحریر نہیں رہنی اس لئے اگر اس وقت اس کی پوری توجہ تحریر کی طرف نہ ہو تو اسے نقصان پہنچنے کا احتمال ہو سکتا ہے۔وَ لَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْـًٔا۔یہ پانچواں حکم دیا کہ لکھواتے وقت وہ کوئی چیز اس قرض میں سے کم نہ کرے بلکہ اسے صحیح صحیح لکھوائے۔اس میں بظاہر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرض میں تو کوئی کمی نہیں ہو سکتی کیونکہ دونوں فریق آمنے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں۔پھر لَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْـًٔا کا کیوں حکم دیا؟ سو یاد رکھنا چاہیے کہ بعض قرض عجیب عجیب شکل میں ہوتے ہیں۔جن کو تحریر میں لاتے وقت لوگ ایسے پیچیدہ الفاظ لکھتے ہیں جن کا نتیجہ آخر میں کمی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔خصوصاً وہ قرض جو لمبی میعاد کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں۔اور مختلف انواع کے ہوں ان کو تحریر میں لاتے وقت کئی قسم کے دھوکے کر لئے جاتے ہیں جیسے حکومتوں کے قرض ہوتے ہیں۔چونکہ ایسے لمبے قرضوں میں عموماً معاہدات کے وقت چالاکیاں اور فریب کیے جاتے ہیںاس لئے فرمایاکہ لکھوانے میں دیانت سے کام لو اور ایک حبّہ بھی کم کرنے کی کوشش نہ کرو۔فَاِنْ کَانَ الَّذِیْ عَلَیْہِ الْحَقُّ سَفِیْھًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَایَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ ھُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّہٗ بِالْعَدْلِ۔فرماتا ہے اگر وہ شخص جس کے ذمہ حق ہے دماغی لحاظ سےاس قابل نہ ہو کہ مالی معاملات کی اہمیت کو سمجھ سکے یا کمزور ہو۔مثلاً بچہ ہو یا بہت بوڑھا ہو یا لکھوانے کی قدرت نہ رکھتا ہو۔مثلاً گونگا ہو یا پڑھا لکھا نہ ہو تو ایسی صورت میں اس کی طرف سے ایک ولی مقرر ہونا چاہیے جو تمام امور پورے عدل اور انصاف کے ساتھ ملکی قانون کے مطابق لکھوائے چونکہ پہلے یہ حکم دیا جا چکا تھا کہ قرض لینے والالکھوائے اس لئے فرمایا کہ اگر وہ لکھوانے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس صورت میں اس کا ولی اس ذمہ داری کو ادا کرے۔