تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 517
مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا ایک مرد اور دو عورتیں (گواہ بنا لیا کرو) (دو عورتوں کی شرط اس لئے ہے) تا ان میں سے ایک کے بھول جانے کی الْاُخْرٰى ١ؕ وَ لَا يَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا١ؕ وَ لَا تَسْـَٔمُوْۤا صورت میں دونوں میں سے (ہر) ایک دوسری کو (بات) یاد دلائے۔اور جب گواہوں کو بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں۔اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِيْرًا اَوْ كَبِيْرًا اِلٰۤى اَجَلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ اور (خواہ )چھوٹا (لین دین)ہویا بڑا ہو تم اسےاس کی میعاد سمیت لکھنے میں سستی نہ کیا کرو۔یہ بات اللہ کے نزدیک زیادہ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ انصاف والی ہے۔اور شہادت کو زیادہ درست رکھنے والی ہے۔نیز(تمہارے لئے اس بات کو) قریب تر (کر دینے تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيْرُوْنَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ والی) ہے کہ تم شک میں نہ پڑو(پس لین دین کا لکھنا ضروری ہے) سوائے اس (صورت) کے کہ تجارت دست بدست ہو۔جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا١ؕ وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَايَعْتُمْ١۪ وَ لَا جسے تم آپس میں (مال اور رقم) لے دے کر (اسی وقت قصہ ختم کر) لیتے ہو۔اس صورت میں اس (لین دین)کے نہ يُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّ لَا شَهِيْدٌ١ؕ۬ وَ اِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ لکھنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔اور جب باہم خرید و فروخت کرو تو گواہ بنا لیا کرو۔اور (یہ امر یاد رہے کہ )نہ کاتب کو بِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ يُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ۰۰۲۸۳ تکلیف دی جائے اور نہ گواہ کو۔اور اگر تم (ایسا )کروتو یہ (بات ) تم میںنافرمانی (کی علامت)ہو گی۔اور چاہیے کہ (تم )اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔اور (اگر تم ایسا کرو گے تو) اللہ تمہیں علم دے گا۔اور اللہ (تعالیٰ) ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔حلّ لُغات۔تَدَایَنْتُمْ تَدَایَنَ الْقَوْمُ کے معنے ہیں اِسْتَدَانَ بَعْضُھُمْ مِنْ بَعْضٍ۔ایک