تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 516
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ اے ایمان دارو! جب تم کسی دوسرے سے کسی مقررہ میعاد کے لئے قرض لو مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ١ؕ وَ لْيَكْتُبْ بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ١۪ تو اسے لکھ لو۔اور چاہیے کہ کوئی لکھنے والا تمہارے درمیان (طے شدہ معاہدہ کو) انصاف کے ساتھ لکھ دے۔وَ لَا يَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ يَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْيَكْتُبْ١ۚ وَ اور کوئی کاتب لکھنے سے انکار نہ کرے کیونکہ اللہ نے اسے (لکھنا)سکھایا ہے۔پس چاہیے کہ وہ (ضرور )لکھے۔لْيُمْلِلِ الَّذِيْ عَلَيْهِ الْحَقُّ وَ لْيَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَ لَا يَبْخَسْ اور تحریر وہ لکھوائے جس کے ذمہ حق ہو۔اور چاہیے کہ وہ (لکھواتے وقت ) اللہ کا جو اس کا ربّ ہے تقویٰ مدّ نظر رکھے مِنْهُ شَيْـًٔا١ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِيْ عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيْهًا اَوْ اور اس میں سے کچھ (بھی) کم نہ کرے۔اور اگر وہ شخص جس کے ذمہ حق ہے نادان ہو یا کمزور ہو یا (خود) لکھوانے ضَعِيْفًا اَوْ لَا يَسْتَطِيْعُ اَنْ يُّمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهٗ کی قدرت نہ رکھتاہو تو چاہیے کہ (اس کی بجائے) اس کا کار پرداز انصاف کے ساتھ (تحریر)لکھوائے۔بِالْعَدْلِ١ؕ وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِيْدَيْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ١ۚ اور تم اپنے مردوں میں سے (اس موقعہ پر) دو کو گواہ (مقرر ) کر لیا کرو۔فَاِنْ لَّمْ يَكُوْنَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ ہاں اگر دونوں (گواہ) مرد نہ ہوں تو (موقعہ کے) گواہوں سے جن لوگوں کو (بطورگواہ) تم پسند کرتے ہو۔ان میں سے